سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : الرخصة في فضل المرأة
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 343
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں دونوں ایک ساتھ وضو کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 343]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں (نزول حجاب سے قبل یا محرم) مرد اور عورتیں اکٹھے وضو کرلیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 71 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ظاہر ہے دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے سے پہلے فارغ ہوتا، اور پانی دوسرے کے لیے بچ جاتا تو اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 71
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ (یعنی ایک ہی برتن سے) وضو کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 71]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ”آدمی اور عورتیں اکٹھے وضو کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 71]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 43 (193)، سنن ابی داود/الطہارة 39 (79)، سنن ابن ماجہ/فیہ 36 (381)، (تحفة الأشراف: 8350)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/فیہ 3 (15)، مسند احمد 2/4، 103، 113، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد میاں بیوی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري