🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : التوقيت في الخيار
باب: شوہر کے پاس رہنے یا اس سے الگ ہونے کے اختیار کی مدت متعین کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3469
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمُوسَى بْنُ عُلَيٍّ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَايَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا إِلَى قَوْلِهِ: جَمِيلا سورة الأحزاب آية 28، فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَسُولَهُ، وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ حِينَ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاخْتَرْنَهُ طَلَاقًا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُنَّ اخْتَرْنَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (اختیار دہی) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا» اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ (الاحزاب: ۲۸) تک پڑھی (یہ آیت سن کر) میں نے کہا: میں اس بات کے لیے اپنے ماں باپ سے صلاح و مشورہ لوں؟ (مجھے کسی سے مشورہ نہیں لینا ہے) میں اللہ عزوجل، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں (یہی میرا فیصلہ ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے بھی ویسا ہی کیا (اور کہا) جیسا میں نے کیا (اور کہا) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے کہنے اور ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کر لینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3469]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم ہوا تو آپ سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں تجھ سے ایک بات کرتا ہوں۔ جواب دینے میں جلدی کی ضرورت نہیں۔ بے شک اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ (آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ) آپ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ پھر آپ نے یہ تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِيدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 28] اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے: اگر تم دنیا کی زندگی اور زیب و زینت کی طالب ہو تو آؤ میں تمہیں اچھے طریقے سے فارغ کر دوں...۔ میں نے فوراً کہا: کیا میں اس کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ طلب کروں؟ میں تو ہر حال میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت ہی کی طلب گار ہوں، پھر دیگر ازواج مطہرات نے بھی اسی طرح کہا جس طرح میں نے کہا تھا۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے یہ کچھ کہا اور انہوں نے آپ ہی کو اختیار کیا تو یہ طلاق نہ بنی کیونکہ انہوں نے (بجائے طلاق کے) آپ کو اختیار کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3203 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دنیا اور اس کی زینت اور نبی کی مصاحبت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کر لیں۔ ۲؎: معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی الله عنہا کے خیار کی مدت ماں باپ سے مشورہ لینے تک متعین کی۔ ۴؎: اس لیے کہ وہ بیویاں تو پہلے ہی سے تھیں، اگر وہ آپ کو منتخب نہ کرتیں تب طلاق ہو جاتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3203
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهَا حِينَ أَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَدَأَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ سورة الأحزاب آية 28 , فَقُلْتُ: فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو (دو بات میں سے ایک کو اپنا لینے کا) اختیار دیں۔ اس کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سب سے پہلے) میرے پاس آ کر کی۔ آپ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں لیکن جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کر لینے کا مشورہ اور حکم (کبھی بھی) نہ دیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: (یعنی یہ آیت پڑھی) «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعكن» اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی، دنیاوی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں، اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں (الاحزاب: ۲۸) میں نے کہا: اس سلسلہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ (مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں) کیونکہ میں اللہ کو، اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر (جنت) کو چاہتی ہوں (یہی میرا فیصلہ ہے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3203]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو (طلاق لینے کا) اختیار دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سب سے پہلے) میرے پاس آئے اور فرمایا: عائشہ! میں تجھ سے ایک بات ذکر کرتا ہوں، تو اس (کا جواب دینے) کے بارے میں جلدی نہ کرنا حتیٰ کہ اپنے والدین سے مشورہ کر لے۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ میرے والدین کبھی بھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ آیت پڑھی): ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا﴾ [سورة الأحزاب: 28] اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کی طلب گار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ سامان دے کر فارغ کر دوں... الخ۔ میں نے کہا: میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ طلب کروں؟ بلاشک و شبہ میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کی طلب گار ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرالأحزاب 4 (4785)، 5 (4786) تعلیقًا، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1475)، سنن الترمذی/تفسیرالأحزاب (3204)، (تحفة الأشراف: 17767)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 20 (2053)، مسند احمد (6/78، 103، 152، 211)، سنن الدارمی/الطلاق 5 (2274)، ویأتی عند المؤلف فی الطلاق 26 (برقم3469) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مگر کسی نے آپ سے علیحدگی قبول نہ کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَتْ وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29، دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ، أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ، فَقَرَأَ عَلَيَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 , فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ، وَرَسُولَهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالْأَوَّلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کر لینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہیں ہیں، پھر آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» میں نے (یہ آیت سن کر) آپ سے عرض کیا: کیا آپ مجھے اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کر لینے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں (اس بارے میں مشورہ کیا کرنا؟)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ (یعنی حدیث «معمر عن الزہری عن عائشہ» غلط ہے اور اول (یعنی حدیث «یونس و موسیٰ عن ابن شہاب، عن أبی سلمہ عن عائشہ» زیادہ قریب صواب ہے۔ واللہ أعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3470]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت اتری: ﴿وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة الأحزاب: 29] اگر تم اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کو پسند کرتی ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! میں تجھ سے ایک بات کرنے لگا ہوں۔ تجھے جواب میں جلدی کی کوئی ضرورت نہیں حتیٰ کہ تو اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لے۔ آپ جانتے تھے کہ اللہ کی قسم! میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ﴾ [سورة الأحزاب: 28] اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے: اگر تم دنیا کی زندگی اور زیب و زینت چاہتی ہو تو۔ میں نے فوراً کہا: کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ لوں؟ میں تو (ہر حال میں) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کی طلب گار ہوں۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ، یعنی حدیثِ معمر عن الزہری، عن عروہ، عن عائشہ رضی اللہ عنہا غلطی ہے۔ اور پہلی، یعنی حدیثِ یونس و موسیٰ بن علی عن ابن شہاب، عن ابی سلمہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا درست ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب 15 (4786م) تعلیقًا، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1475)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 20 (209)، تحفة الأشراف: 16632)، مسند احمد (6/33، 163، 185، 263) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں