🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب : إذا عرض بامرأته وشك في ولده وأراد الانتفاء منه
باب: مرد عورت پر بدکاری کا شبہ کرے اور بیٹے کے بارے میں شک کرے اور اس سے اپنی برأت کا ارادہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3510
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ حِمْصِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي؟ قَالَ: فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ؟ قَالَ: فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ، قَالَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَا يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، إِلَّا أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان کے رنگ کیا ہیں؟، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو (یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3510]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے گھر سیاہ رنگ کا لڑکا پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسے ہوگا؟ اس نے کہا: مجھے تو کوئی پتہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا: جی! بہت سے اونٹ خاکستری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسے ہوا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حقیقت تو نہیں جانتا الا یہ کہ کسی رگ کی کشش ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے میں بھی کسی رگ کی کشش ہو سکتی ہے۔ اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا: کسی آدمی کو اس بچے کی نفی کی اجازت نہیں جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ہو، الا یہ کہ وہ دعویٰ کرے کہ میں نے اپنی بیوی کو زنا کی حالت میں دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13170) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3508
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تَرَى، أَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کس رنگ کے ہیں؟، اس نے کہا لال رنگ (کے ہیں)، آپ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: (یہی بات یہاں بھی سمجھو) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3508]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، ان میں خاکستری بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے وہ کدھر سے آگئے؟ وہ کہنے لگا: ہو سکتا ہے کسی جدی رگ کا اثر ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے میں بھی کسی جدی رگ کا اثر ہو سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2260)، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200)، (تحفة الأشراف: 13129)، صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، والحدود 41 (6847)، والاعتصام 12 (7314)، سنن الترمذی/الولاء 4 (2129)، مسند احمد (2/334، 239، 409) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا اس شخص کو اپنی بیوی پر شک ہوا کہ بیٹے کا کالا رنگ کہیں اس کی بدکاری کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ ۲؎: یعنی تم گرچہ گورے سہی تمہارے آباء و اجداد میں کوئی کالے رنگ کا رہا ہو گا اور اس کا اثر تمہارے بیٹے میں آ گیا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ، قَالَ: فَمَا ذَاكَ تُرَى؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ , قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟ اس نے کہا (جی ہاں) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: (یہ بھی ایسا ہی سمجھ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3509]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو فزارہ میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنا ہے، اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ میرا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس رنگ کے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں خاکستری بھی ہے؟ اس نے کہا: جی کئی خاکستری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تو کیا سمجھتا ہے؟ وہ کہنے لگا: کسی جدی رگ کا اثر ہو سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے میں بھی کسی جدی رگ کا اثر ہو سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کی نفی کی اجازت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2261)، (تحفة الأشراف: 13273)، مسند احمد (2/233، 279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں