سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : عدة الحامل المتوفى عنها زوجها
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3537
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ سُبَيْعَةَ أَنْ تَنْكِحَ إِذَا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا".
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو اپنے نفاس سے فراغت کے بعد شادی کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3537]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی تھی کہ جب وہ نفاس سے پاک ہو جائیں تو آگے نکاح کر سکتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3536
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ," أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَنْكِحَ، فَأَذِنَ لَهَا، فَنَكَحَتْ".
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3536]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کا ان کے خاوند کی وفات کے چند راتیں بعد بچہ پیدا ہو گیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور نکاح کی اجازت طلب کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے نکاح کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 39 (5320)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2029)، (تحفة الأشراف: 11272)، موطا امام مالک/الطلاق 30 (85)، مسند احمد (4/327)، ویأتي فیما یلي (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري