🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب : مقام المتوفى عنها زوجها في بيتها حتى تحل
باب: جس کا شوہر مر جائے وہ حلال ہونے تک اپنے گھر ہی میں عدت گزارے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3560
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ فُرَيْعَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ، فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُّومِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ النُّقْلَةَ إِلَى أَهْلِي، وَذَكَرَتْ لَهُ حَالًا مِنْ حَالِهَا، قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا أَقْبَلْتُ نَادَانِي، فَقَالَ:" امْكُثِي فِي أَهْلِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے شوہر اپنے (بھاگے ہوئے کچھ) غلاموں کی تلاش میں نکلے تو وہ قدوم کے علاقے میں قتل کر دیئے گئے، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہو جانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ سے (وہاں رہنے کی صورت میں) اپنے کچھ حالات (اور پریشانیوں) کا ذکر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (منتقل ہو جانے کی) اجازت دے دی۔ پھر میں جانے لگی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: عدت کی مدت پوری ہونے تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3560]
حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرا خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلا، اسے طرفِ قدوم مقام پر قتل کر دیا گیا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے میکے منتقل ہونے کا ذکر کیا اور اپنی مجبوری بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجھے رخصت عنایت فرما دی، لیکن جب میں واپس چلی تو مجھے بلایا اور فرمایا: اپنے اسی گھر میں ٹھہری رہ حتیٰ کہ مقررہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3558 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3558
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، ويحيى بن سعيد، ومحمد بن إسحاق , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفَارِعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ فَقَتَلُوهُ، قَالَ شُعْبَةُ , وَابْنُ جُرَيْجٍ وكانت في دار قاصية فجاءت ومعها أخوها إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ، فَرَخَّصَ لَهَا حَتَّى إِذَا رَجَعَتْ دَعَاهَا، فَقَالَ:" اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
فارعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر (بھاگے ہوئے) غلاموں کی تلاش میں نکلے (جب وہ ان کے سامنے آئے) تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا۔ (شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں: اس عورت کا گھر دور (آبادی کے ایک سرے پر) تھا، وہ عورت اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے گھر کے الگ تھلگ ہونے کا ذکر کیا (کہ وہاں گھر والے کے بغیر عورت کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے) آپ نے اسے (وہاں سے ہٹ کر رہنے کی) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ (گھر جانے کے لیے) لوٹی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ (قرآن) کی مقرر کردہ عدت کی مدت پوری ہو جائے۔ (اس کے بعد تم آزاد ہو جہاں چاہو رہو)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3558]
حضرت فارعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرا خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلا، انہوں نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا، اس وقت میری رہائش ایک دور دراز گھر میں تھی، میں اور میرے دو بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال ذکر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس گھر سے منتقل ہونے کی اجازت دے دی لیکن جب میں واپس جانے کو مڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر فرمایا: اپنے گھر ہی میں رہو حتیٰ کہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 44 (2300) مطولا، سنن الترمذی/الطلاق 23 (1204)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 8 (2031)، (تحفة الأشراف: 18045)، موطا امام مالک/الطلاق31، مسند احمد (6/370، 420)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2333)، ویأتي فیما یلي و برقم: 3562 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3559
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ ," أَنَّ زَوْجَهَا تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلَيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي، وَيَتَامَايَ، وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ:" افْعَلِي، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ قُلْتِ؟ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا، قَالَ: اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ".
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چنانچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں (یعنی ماں باپ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ایسا کر لو، پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ نے فرمایا: کیسے بیان کیا تم نے (ذرا ادھر آؤ تو)؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ (اس پر) آپ نے فرمایا: جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3559]
حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے خاوند نے کچھ عجمی غلام کسی کام کے لیے کرائے پر لیے، انہوں نے اسے قتل کر دیا، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی اور عرض کیا کہ میں اپنے خاوند کے ذاتی گھر میں نہیں رہ رہی اور مجھے اس کی طرف سے کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ملتا تو کیا میں اور میرے یتیم بچے میرے میکے میں منتقل ہو جائیں؟ میں وہاں ان بچوں کی دیکھ بھال بھی کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے کرلو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے کہا تھا؟ میں نے دوبارہ پوری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تجھے وفات کی خبر پہنچی ہے، وہیں عدت پوری کر۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3562
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي فُرَيْعَةُ بِنْتُ مَالِكٍ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجِي بِالْقَدُومِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ، إِنَّ دَارَنَا شَاسِعَةٌ فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ دَعَاهَا، فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر کا قدوم (بستی) میں انتقال ہو گیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر (بستی سے) دور (الگ تھلگ) ہے (تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3562]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرا خاوند قدوم جگہ میں قتل ہو گیا۔ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا کہ ہمارا گھر دور دراز جگہ میں ہے (مجھے میکے منتقل ہونے کی اجازت دی جائے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، پھر بلایا اور فرمایا: اپنے گھر ہی میں چار ماہ دس دن ٹھہر حتیٰ کہ مقررہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3558 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں