🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : هل أوصى النبي صلى الله عليه وسلم
باب: کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3654
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا، فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَشْعُرُ، فَإِلَى مَنْ أَوْصَى؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی (اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے (روح پرواز کر گئی) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3654]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی ہے (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کے لیے تھال منگوایا، اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے (اور آپ اللہ کو پیارے ہو گئے)۔ مجھے (آپ کی وفات کا) پتا بھی نہیں چلا تو آپ نے کس کو وصیت فرما دی؟ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 33 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کر گئی، اس وقت تک میں وہاں موجود تھی پھر آخر کون ہے جسے وصی بنایا گیا؟ البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے کتاب و سنت سے متعلق وصیت انتقال سے کچھ روز پہلے کی ہو اور یہ وصیت کسی کے ساتھ خاص نہیں ہو سکتی بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 33
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا أَزْهَرُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ" لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ". وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى، قَالَ الشَّيْخُ: أَزْهَرُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) علی رضی اللہ عنہ کو وصی بنایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر (اس سے قبل ہی) آپ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ (آپ فوت ہو گئے) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 33]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر (اس سے قبل ہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم ڈھیلا پڑ گیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کو وصیت کی؟ شیخ ابن سنی رحمہ اللہ نے کہا: سند میں مذکور راوی ازہر سے مراد ازہر بن سعد سمان (گھی فروش) ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 33]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 1 (2741)، المغازي 83 (4459)، صحیح مسلم/الوصیة 5 (1636)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 64 (1626)، (تحفة الأشراف: 15970)، مسند احمد 6/32، ویأتي عند المؤلف في الوصایا 2 (رقم: 3654) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں