🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : الوصية بالثلث
باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3666
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَلَمَّا حَضَرَ جِدَادُ النَّخْلِ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ:" قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ، قَالَ:" اذْهَبْ، فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّمَا أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ أَصْحَابَكَ، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَأَنَا رَاضٍ أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ ان کے والد ۱؎ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور قرض چھوڑ کر جنگ احد میں شہید ہو گئے، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد میں شہید کر دیے گئے ہیں اور وہ بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو (وہاں موجود) دیکھیں (تاکہ مجھ سے وصول کرنے کے سلسلے میں سختی نہ کریں) آپ نے فرمایا: جاؤ اور ہر ڈھیر الگ الگ کر دو، تو میں نے (ایسا ہی) کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، جب ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس گھڑی گویا وہ لوگ مجھ پر اور بھی زیادہ غصہ ہو گئے ۲؎ جب آپ نے ان لوگوں کی حرکتیں جو وہ کر رہے تھے دیکھیں تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے اردگرد تین چکر لگائے پھر اسی ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ جب وہ لوگ آ گئے تو آپ انہیں برابر (ان کے مطالبے کے بقدر) ناپ ناپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کرا دی اور میں اس پر راضی و خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کر دی اور ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3666]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم جنگِ احد کے دن شہید ہو گئے۔ وہ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور اپنے ذمے بہت سا قرض چھوڑ گئے۔ جب کھجوروں کی کٹائی کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپ جانتے ہیں کہ میرے والد احد کی جنگ کے دن شہید ہو گئے تھے۔ وہ اپنے ذمے کافی قرض چھوڑ گئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں (آپ تشریف لائیں تاکہ شاید) قرض خواہ حضرات آپ کا لحاظ رکھیں (اور رعایت کر دیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کے الگ الگ ڈھیر لگا دو۔ میں نے ایسا کرنے کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ جب قرض خواہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ مجھ پر بہت بھڑکے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے طرزِ عمل کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اٹھے اور) سب سے بڑے ڈھیر کے گرد چکر لگانے لگے۔ تین چکر لگانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو ماپ ماپ کر دیتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کا سب قرض اتار دیا۔ میں تو اس بات پر بھی راضی تھا کہ میرے والد محترم کا قرض ادا ہو جائے، خواہ کچھ بھی باقی نہ رہے (مگر قرض کی ادائیگی کے باوجود) ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 51 (2127)، الاستقراض 8 (2395)، 18 (2405)، الہبة 21 (2601)، الوصایا 36 (2781)، المناقب 25 (3580)، المغازي 18 (4053)، (تحفة الأشراف: 2344)، ویأتی فیما یلي: 3667، 3668 و3670 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی الله عنہ۔ ۲؎: یعنی اپنا اپنا مطالبہ لے کر شور برپا کرنے لگے کہ ہمیں دو، ہمارا حساب پہلے چکتا کرو وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3670
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا الثَّمَرَةَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا وَلَمْ يَرَوْا فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ فَآذِنِّي , فَلَمَّا جَدَدْتُهُ وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ لِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ وَقَالَ: ائْتِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُمَا، فَقَالَا: قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد (غزوہ احد میں) انتقال کر گئے اور ان کے ذمہ قرض تھا تو میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ والد کے ذمہ ان کا جو حق ہے اس کے بدلے (ہمارے باغ کی) کھجوریں لے لیں تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا، وہ سمجھتے تھے کہ اتنی کھجوریں ان کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کھجوریں توڑ کر کھلیان میں رکھ دو تو مجھے خبر کرو، چنانچہ جب میں نے کھجوریں توڑ کر انہیں کھلیان میں رکھ دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور آپ کو بتایا) آپ آئے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، آپ اس پر بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی پھر فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں ان کا حق پورا پورا دیتے جاؤ تو میں نے کسی کو بھی جس کا میرے باپ پر قرض تھا نہیں چھوڑا، سب کو اس کا پورا پورا حق دے دیا اور میرے لیے تیرہ وسق کھجوریں بھی بچ رہیں، جب میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ہنسے اور فرمایا: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور انہیں بھی یہ بات بتاؤ، تو میں نے ان دونوں کو بھی اس بات کی خبر دی، تو ان دونوں نے کہا: جب ہم نے آپ کو وہ کرتے دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تو ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3670]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے والد محترم فوت ہوئے تو ان کے ذمے بہت سا قرض تھا۔ میں نے ان کے قرض خواہوں کو پیش کش کی کہ وہ اپنے قرض کے عوض اس سال کا سارا پھل لے لیں۔ وہ نہ مانے، ان کا خیال تھا کہ اس پھل سے قرض پورا نہیں ہوگا، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوری بات کہہ سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو کھجوریں کاٹ کر کھلیان میں رکھ لے تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب میں نے کھجوریں کاٹ کر کھلیان میں رکھ لیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف لائے اور کھلیان پر بیٹھ کر برکت کی دعا کی۔ پھر فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں ان کا قرض پورا پورا دیتے جاؤ۔ جس کسی کا بھی میرے والد مرحوم کے ذمے قرض تھا، میں نے ان سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تیرہ وسق بچ گئے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: جا کر ابوبکر اور عمر کو بھی بتاؤ۔ میں نے انہیں بتایا تو وہ کہنے لگے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دعا کی تھی تو ہمیں اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ ایسے ہی ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستقراض 9 (2396)، الصلح 13 (2709)، سنن ابی داود/الوصایا 17 (2884)، مختصراً سنن ابن ماجہ/الصدقات 20 (2434)، تحفة الأشراف: 3126) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں