🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : تحريم ما أحل الله عز وجل
باب: اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3826
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا , فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" لَا , بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَلَنْ أَعُودَ لَهُ" , فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 1 - 4 عَائِشَةُ , وَحَفْصَةُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 , لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ (کے منہ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں (التحریم: ۱) «‏إن تتوبا إلى اللہ» (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) (اے نبی کی بیویو!) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہتر ہے) (التحریم: ۴) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے (مگر اب نہیں پیوں گا) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی (التحریم: ۳) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3826]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی ایک بیوی) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں زیادہ دیر ٹھہرے تھے کیونکہ آپ وہاں سے شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہے کہ بلاشبہ میں آپ سے «مَغَافِير» مغافیر کی بو محسوس کر رہی ہوں، کیا آپ نے مغافیر (گوند) کھائی ہے؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لائے تو اس نے یہ لفظ کہہ دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے ہاں سے شہد پیا ہے، اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا۔ تو پھر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے؟ آگے حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور (اپنی غلطی سے) توبہ کرو (تو تمہیں لائق ہے)۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے راز کی بات کہی، اس میں اشارہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی طرف کہ میں نے تو شہد پیا ہے، (آئندہ نہیں پیوں گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3410 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3450
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا، مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَيْهِمَا، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ، وَقَالَ: لَنْ أَعُودَ لَهُ، فَنَزَلَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4, لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3"، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا , كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ (کیا بات ہے) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے (اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے) تو آئندہ نہ پیوں گا۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں (التحریم: ۱) اور «إن تتوبا إلى اللہ» (اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہت بہتر ہے)۔ (التحریم: ۴) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی (التحریم: ۳) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3450]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس (زیادہ دیر) ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں منصوبہ بنایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے ہاں بھی تشریف لائیں وہ آپ سے کہے کہ میں آپ سے «الْمَغَافِيرِ» (مغافیر) کی بو پاتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ سے وہی بات کہہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو زینب کے ہاں سے شہد پیا ہے، دوبارہ نہیں پیوں گا۔ پھر یہ آیت اتری: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟ (آگے آنے والے الفاظ) ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ ہے اور ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] میں بات سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: میں نے شہد پیا ہے (دوبارہ نہیں پیوں گا)۔ یہ ساری تفصیل عطاء کی حدیث میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3410 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مغفر ایک قسم کی گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3410
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ , أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" لَا , بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَلَنْ أَعُودَ لَهُ" , فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4 لِعَائِشَةَ , وَحَفْصَةَ , وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا۔ تو عائشہ اور حفصہ (رضی اللہ عنہما) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں۔ (التحریم: ۱) اور «إن تتوبا إلى اللہ» (اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہت بہتر ہے)۔ (التحریم: ۴) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی (التحریم: ۳) نازل ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3410]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس (کچھ زیادہ دیر) ٹھہرتے تھے کہ ان کے پاس شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے منصوبہ بنایا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہہ دے: میں آپ سے مغافیر کی بو پاتی ہوں۔ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سے کسی کے گھر تشریف لے گئے تو اس نے یہی کچھ آپ سے کہہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے ہاں سے شہد پیا ہے، دوبارہ نہیں پیوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے۔ آگے فرمایا: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم توبہ کرو... الخ۔ اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں۔ اور: ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیوی سے راز کی بات فرمائی۔ اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: بلکہ میں نے شہد پیا ہے... الخ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر سورة التحریم 1 (4912) مختصراً، الطلاق 8 (5267)، والأیمان والنذور 25 (6691)، الحیل 12 (6972)، صحیح مسلم/الطلاق 3 (1474)، سنن ابی داود/الأشربة 11 (3714)، (تحفة الأشراف: 16322)، مسند احمد (6/221)، ویأتي عند المؤلف في الطلاق 17 (برقم: 3450) وفي الأیمان والنذور 20 برقم: 3826 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں