🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : في اللغو والكذب
باب: (خرید و فروخت کے وقت) غلط اور جھوٹی باتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3831
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ , نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا , وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ , وَيُسَمِّينَا النَّاسُ , فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا , وَسَمَّانَا النَّاسُ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ , إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ.
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» (دلال) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں (بلا قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3831]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم مدینہ منورہ میں غلے کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور اپنے آپ کو «سِمْسَار» کہا کرتے تھے، لوگ بھی ہمیں یہی کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہمیں ہمارے اور لوگوں کے رکھے ہوئے نام سے بہترین نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہارے سودوں میں (بلا قصد و ارادہ) جھوٹ اور قسموں کی ملاوٹ ہوتی ہے، لہٰذا تم اپنے سودوں کے ساتھ ساتھ صدقے کی بھی ملاوٹ کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3828
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ , فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ اسْمِنَا , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ , إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ , وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں «سماسر» (دلال) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خرید و فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ ۱؎ بھی شامل ہو جاتی ہیں تو تم اپنی خرید و فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3828]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں (تاجروں کو) دلال کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (بازار میں) تشریف لائے۔ ہم خرید و فروخت کر رہے تھے۔ آپ نے ہمارے نام سے بہتر نام ہمارے لیے مقرر فرمایا۔ آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! بیچتے وقت (بسا اوقات بلا قصد) قسم اور جھوٹ صادر ہو جاتے ہیں، لہٰذا تم فروخت کے ساتھ ساتھ صدقہ بھی کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 1 (3327)، سنن الترمذی/البیوع 4 (1208)، سنن ابن ماجہ/التجارات 3 (2145)، (تحفة الأشراف: 11103)، مسند احمد (4/6، 280)، ویأتي فیما یلي: 3829، 3831، وفي البیوع 7 برقم: 4468 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎؎: یعنی خرید و فروخت میں بعض دفعہ بغیر ارادے اور قصد کے بعض ایسی باتیں زبان پر آ جاتی ہیں جو خلاف واقع ہوتی ہیں تو کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کرو تاکہ وہ ایسی چیزوں کا کفارہ بن جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3829
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , وَعَاصِمٌ , وَجَامِعٌ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ , فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ" , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ , وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو «سماسرہ» (دلال) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: خرید و فروخت میں (بغیر قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3829]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم بقیع کے بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہمیں اس وقت «سَمَاسِرَةَ» (دلال) کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ» اے تاجروں کی جماعت! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سابقہ نام سے بہتر نام رکھا۔ پھر فرمایا: «إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» خرید و فروخت کرتے وقت (بلاقصد) قسم اور جھوٹ صادر ہو جاتے ہیں، لہٰذا ساتھ ساتھ صدقہ بھی کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3830
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ فِي السُّوقِ , فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ.
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ان بازاروں میں (بغیر قصد و ارادے کے) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3830]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بازار میں (تجارت کررہے) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بازار میں فضول باتوں اور جھوٹ کی آمیزش ہوتی رہتی ہے، لہٰذا صدقہ کرتے رہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صدقہ کیا کرو تو یہ ان کا کفارہ بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4468
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا، وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، وَيُسَمِّينَا النَّاسُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ لَنَا مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ، وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے میں (غلوں سے بھرے) وسق خریدتے اور بیچتے تھے، اور ہم اپنا نام «سمسار» (دلال) رکھتے تھے، لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے اور ہمارا ایسا نام رکھا جو ہمارے رکھے ہوئے نام سے بہتر تھا، اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں قسم اور لغو باتیں آ جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ کو ملا دیا کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 4468]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مدینہ منورہ میں غلے وغیرہ کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو «السِّمْسَارُ» سمسار کہا کرتے تھے، لوگ بھی ہمیں اسی لفظ سے موسوم کرتے تھے حتیٰ کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں (بازار میں) تشریف لائے اور ہمیں ایسے نام سے پکارا جو ہمارے رکھے ہوئے نام سے بدرجہا بہتر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہارے سودوں میں بلا قصد قسمیں اور فضول باتیں واقع ہوتی رہتی ہیں، لہٰذا تم صدقہ کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 4468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خرید و فروخت کے وقت زبان سے «لا واللہ» اور «بلیٰ واللہ» ، اللہ کی قسم، قسم اللہ کی ایمان سے وغیرہ وغیرہ جیسے قسمیہ الفاظ جو نکل جاتے ہیں ان کا شمار یمین لغو (بیکار قسم) میں ہوتا ہے، ان کا کفارہ صدقہ کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں