سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : الاستثناء
باب: قسم میں استثنا یعنی ”ان شاءاللہ“ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3887
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ،" قَالَ سُلَيْمَانُ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقِيلَ لَهُ: قُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ، فَطَافَ بِهِنَّ , فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ , وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان علیہ السلام نے کہا: آج رات میں نوے (۹۰) عورتوں (بیویوں) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا: آپ ان شاءاللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انہوں نے ”ان شاءاللہ“ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3887]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: میں رات کو نوے بیویوں کے پاس ضرور جاؤں۔ ان میں سے ہر ایک عورت ایسا لڑکا جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ آپ سے کہا گیا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ کہیں لیکن انہوں نے نہ کہا، چنانچہ آپ ان سب کے پاس گئے لیکن صرف ایک عورت نے بچہ جنا، وہ بھی ناقص۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ کہہ دیتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور ان کی دلی مراد بر آتی۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 19 (5242)، صحیح مسلم/الأیمان 5 (1654)، (تحفة الأشراف: 13518)، مسند احمد (2/275) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے کتاب الأیمان والنذور میں قسم اور نذر کو دو شرط مان کر اس باب میں تیسری شرط کا ذکر کیا، اس لیے کہ ان میں اکثر و بیشتر استثنا اور تعلیق کا تذکرہ ہوتا ہے، اسی لیے اس کو تیسری شرط کا عنوان دے کر یہ بتایا کہ اس میں مزارعت اور و ثائق کا تذکرہ ہو گا (التعلیقات السلفیۃ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3862
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً , كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَلَمْ يَقُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا , فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ , جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ , وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داود علیہ السلام نے (قسم کھا کر) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ”ان شاءاللہ“ (اگر اللہ نے چاہا) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ”ان شاءاللہ“ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3862]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام نے فرمایا: میں رات کو اپنی نوے (90) عورتوں کے پاس ضرور جاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ آپ کے ساتھی نے آپ سے (بطورِ تلقین) کہا: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“، لیکن آپ نے «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ نہ کہا، پھر آپ ان سب عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سے کسی کو بھی حمل نہ ٹھہرا سوائے ایک عورت کے۔ اس نے بھی ناقص بچہ جنا۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر وہ «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ کہہ دیتے تو سب بچے شہسوار بن کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 3 (6639)، تحفة الأشراف: 13731)، صحیح مسلم/الأیمان 5 (1654)، سنن الترمذی/الأیمان 7 (1532- تعلیقاً)، مسند احمد (2/229، 275، 506) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ قسم کھانے والے نے اگر بذات خود ”ان شاءاللہ“ نہیں کہا ہے بلکہ کسی اور نے کہا ہے تو یہ استثناء قسم کھانے والے کے حق میں مفید نہ ہو گا (یعنی: اگر قسم توڑی تو حانث ہو جائے گا)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري