🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يُزْرِعْهَا , أَوْ يُمْسِكْهَا". وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں جنہیں وہ آدھا، تہائی اور چوتھائی پر اٹھاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے یا بلا کھیتی کرائے روکے رکھے۔ مطر بن طہمان نے اوزاعی کی موافقت (متابعت) کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3907]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے پاس فالتو زمینیں تھیں۔ وہ انہیں نصف یا تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس فالتو زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی اسلامی بھائی کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دے یا پھر سنبھالے رکھے۔ مطر بن طہمان نے اس (اوزاعی) کی موافقت کی ہے۔ (مطر نے بھی اپنی روایت میں عن عطاء میں جابر کہا ہے، نہ کہ عن ابن عباس)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الہبة 35 (2632)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن ابن ماجہ/الرہون 7 (2451)، (تحفة الأشراف: 2424)، مسند احمد (3/355) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3905
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَلَا يُزْرِعْهَا إِيَّاهُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دیدے اور اس سے اس میں بٹائی پر کھیتی نہ کرائے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3905]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس (فالتو) زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے۔ اگر وہ خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو اپنے مسلمان بھائی کو بطور وقتی عطیہ کے دے دے، بٹائی یا ٹھیکے پر نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17(1536)، (تحفة الأشراف: 2439)، مسند احمد (3/302، 304) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا". تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو دیدے اور اسے بٹائی پر نہ دے۔ عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے (یہ متابعت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3906]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو وقتی طور پر بطور عطیہ دے دے لیکن اسے کرایہ (بٹائی یا ٹھیکے) پر نہ دے۔ اس حدیث کو (عن عطاء عن جابر سے) بیان کرنے میں عبدالرحمن بن عمرو اوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3908
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ هُوَ الْفَاخُورِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا وَلَا يُؤَاجِرْهَا".
جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور کہا: جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا کسی سے اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے اور اسے کرائیے پر نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3908]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: جس شخص کے پاس (فالتو) زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دے۔ اسے کرایہ پر نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن ابن ماجہ/الرہون 7 (2454)، (تحفة الأشراف: 2486)، مسند احمد (3/369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3912
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَأَلَ عَطَاءٌ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَ جَابِرٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا أَخَاهُ". وَقَدْ رَوَى النَّهْيَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے لیکن اسے اپنے بھائی کو کرائیے پر نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3912]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس (فالتو) زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو بلا معاوضہ کاشت کے لیے دے دے لیکن اسے کرایہ پر نہ دے۔ «مُحَاقَلَہ» سے ممانعت (کی حدیث) یزید بن نعیم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، (تحفة الأشراف: 2491)، مسند احمد (3/363) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں