سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3940
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ , فَبَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ شَيْءٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَمَشَى إِلَى رَافِعٍ , وَأَنَا مَعَهُ , فَحَدَّثَهُ رَافِعٌ , عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ"، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین کا کرایہ لیتے تھے، انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی کوئی بات سننے کو ملی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور رافع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا، تو رافع رضی اللہ عنہ نے ان سے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے (یہ حدیث بیان کی) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ترک کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3940]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین کا کرایہ لیا کرتے تھے، پھر انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے کوئی روایت پہنچی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کسی چچا کے حوالے سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے،“ پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کرایہ لینا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3926
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي، فَقَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ , وَنُكْرِيَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى , وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا , أَوْ يُزْرِعَهَا , وَكَرِهَ كِرَاءَهَا". وَمَا سِوَى ذَلِكَ أَيُّوبُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ يَعْلَى.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، ہم اسے تہائی یا چوتھائی یا غلہ کی متعینہ مقدار کے عوض کرائیے پر دیتے تھے۔ تو ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں زمین میں بٹائی کا معاملہ کر کے انہیں تہائی اور چوتھائی یا متعینہ مقدار کے غلے کے بدلے کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے۔ اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ اس میں کھیتی کرے، یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے اور اسے کرائے پر اٹھانا یا اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں انہیں ناپسند فرمایا۔ ایوب نے اس حدیث کو یعلیٰ سے نہیں سنا ہے، (بلکہ بذریعہ کتابت روایت کی ہے جیسا کہ اگلی سند سے ظاہر ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3926]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی زمینیں پیداوار کی تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدار میں غلے کے عوض بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ ایک دن میرے چچاؤں میں سے کوئی صاحب آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے بہت مفید تھا، جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمینیں پیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصے یا معین غلے کے عوض بٹائی پر دینے سے منع فرما دیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ ”وہ خود کاشت کرے یا کسی (مسلمان بھائی) کو بلا معاوضہ کاشت کے لیے دے دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی ٹھیکے وغیرہ کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ ایوب نے یعلی بن حکیم سے یہ حدیث نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2346)، 19 (2337)، صحیح مسلم/البیوع 18 (1548)، سنن ابی داود/البیوع 32 (3395)، سنن ابن ماجہ/الرہون 12 (2465)، (تحفة الأشراف: 3559، 15570)، مسند احمد (3/465، 4/169)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3927- 3929، 3940، 3941) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3935
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ , حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ , فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا , يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. أَرْسَلَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ.
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرائے پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکتے ہیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے ملاقات کی اور کہا: ابن خدیج! زمین کو کرائے پر اٹھانے کے بارے میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نقل کرتے ہیں؟ تو رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے اپنے دو چچاؤں کو (کہتے) سنا (ان دونوں نے بدر میں شرکت کی تھی) وہ دونوں گھر والوں سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جانتا تھا کہ زمین کرائے پر اٹھائی جا سکتی ہے، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خوف ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کوئی ایسی نئی بات کہی ہو گی جسے وہ نہ جان سکے ہوں، چنانچہ انہوں نے زمین کو کرائے پر اٹھانا چھوڑ دیا۔ اسے شعیب بن ابی حمزہ نے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3935]
حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیتے تھے حتیٰ کہ انہیں معلوم ہوا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بٹائی سے روکتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے اور کہا: اے ابن خدیج! زمین کی بٹائی سے متعلق آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہیں؟ تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنے دو چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں بدری صحابی تھے، وہ اپنے گھر والوں کو بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کرائے پر دینے“ سے منع کیا ہے جبکہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں زمینیں بٹائی پر دی جاتی تھیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہیں فرماتے تھے)۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خدشہ محسوس ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی حکم جاری فرمایا ہو مگر مجھے پتا نہ چلا ہو، اس لیے انہوں نے زمین بٹائی پر دینی چھوڑ دی۔ شعیب بن ابوحمزہ نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شعیب نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: «عن الزھری قال بلغنا أن رافع بن خدیج» جب کہ آگے روایت آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3936
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ عَمَّيْهِ , وَكَانَا يَزْعُمُ شَهِدَا بَدْرًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَمَّيْهِ.
زہری کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اپنے دو چچاؤں سے جو ان کے خیال میں غزوہ بدر میں شریک تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ اسے عثمان بن سعید نے بھی شعیب سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے دونوں چچاؤں کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3936]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے دو چچا جو بدری صحابی تھے، بیان فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے“۔ (جس طرح بشر بن شعیب نے یہ روایت اپنے باپ شعیب سے بیان کی ہے اسی طرح) عثمان بن سعید نے (بھی) یہ روایت شعیب سے بیان کی ہے، لیکن (بشر کے برعکس) اس (شعیب) نے رافع بن خدیج کے دو چچاؤں کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3934(صحیح) (سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3941
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعٌ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ"، فَتَرَكَهَا بَعْدُ. رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ عُمُومَتَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ زمین کا کرایہ لیتے تھے، یہاں تک کہ رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اسے ترک کر دیا۔ اسے ایوب نے نافع سے، انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور ان کے چچاؤں کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3941]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما زمین کا کرایہ لیا کرتے تھے حتیٰ کہ انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی چچا سے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کا کرایہ لینے سے منع فرمایا ہے۔“ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کرایہ لینا چھوڑ دیا۔ یہ روایت ایوب نے بھی نافع عن رافع کی سند سے بیان کی ہے لیکن انہوں نے «عُمُومَتِهِ» یعنی حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے چچا زاد کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم