سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : تحريم القتل
باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4134
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا". مُرْسَلٌ.
مسروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا“۔ (یہ حدیث) مرسل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4134]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ بن جاؤ۔“ (یہ روایت) مرسل ہے (اور یہی صحیح ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4131(صحیح) (مسروق نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4133
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ , لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ". هَذَا الصَّوَابُ.
مسروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس طرح نہ پاؤں کہ تم میرے بعد کافر ہو جاؤ کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، آدمی سے نہ اس کے باپ کے جرم و گناہ کا مواخذہ ہو گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے جرم و گناہ کا“۔ یہی صحیح ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4133]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس حال میں نہ پاؤں کہ تم میرے بعد کافر بن جاؤ اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹو۔ کسی شخص کو اس کے باپ یا بھائی کے جرم میں گرفتار نہ کیا جائے گا۔“ یہ (مرسل روایت، موصول کی نسبت) درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4131 (صحیح) (اس لیے کہ یہ روایت مرسل ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مسروق کی سند سے مرسل روایت ہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن