🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : الاغتسال في قصعة فيها أثر العجين
باب: آٹا لگے ہوئے برتن میں پانی بھر کر غسل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَصَلَّى الضُّحَى، فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو (فاطمہ رضی اللہ عنہا ۱؎) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کر چکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 415]
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما رہے تھے اور انہوں نے (فاطمہ بنت رسول) ایک کپڑے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پردہ کر رکھا تھا اور پانی والے پیالے (برتن) میں گندھے ہوئے آٹے کے نشان تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صَلَاةُ الضُّحٰى» نمازِ چاشت پڑھی۔ میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 18009)، مسند احمد 6/341 (شاذ) (اس کا آخری ٹکڑا ’’فما ا ٔدری…الخ ہی شاذ ہے، کیوں کہ ام ہانی کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں، دیکھئے حدیث رقم226)»
وضاحت: ۱؎: جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے راوی نے اختصار کی غرض سے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فما أدري .. إلخ فإنه شاذ ولعله من أوهام عبدالملك فقد صح من طرق عن أم هانىء أنه صلى ثمان ركعات بعضها في الصحيحين
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَجَدَتْهُ" يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمَتْ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں غسل کرتے ہوئے ملے، فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے آڑ کیے ہوئے تھیں، (ام ہانی کہتی ہیں) میں نے سلام کیا ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ام ہانی ہوں، تو جب آپ غسل سے فارغ ہوئے، تو کھڑے ہوئے اور ایک ہی کپڑے میں جسے آپ لپیٹے ہوئے تھے آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 226]
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے پایا جبکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا۔ میں نے سلام کہا تو آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا: ام ہانی! جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے ایک کپڑے میں آٹھ رکعات پڑھیں جبکہ وہ (کپڑا) آپ نے کندھوں پر لپیٹ رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 21 (280)، الصلاة 4 (357) مطولاً، الجزیة 9 (3171) مطولاً، المغازي 50 (4292)، الأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/الحیض 16 (336)، المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/السیر 26 (1579)، الاستئذان 34 (2734) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطھارة 59 (465) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 18018)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1290)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (27)، مسند احمد 6/341، 342، 343، 423، 425، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1493) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے جو غسل کر رہا ہو اسے سلام کرنے کا جواز ثابت ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں