سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : الرخصة في إمساك الكلب للحرث
باب: کھیت کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4295
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا مَاشِيَةٍ، وَلَا أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسے کتے کو پالا جو نہ تو شکاری ہو نہ جانوروں کی نگرانی کے لیے ہو اور نہ ہی زمین (کھیتی) کی رکھوالی کے لیے، تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4295]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جانوروں کی حفاظت یا شکار کرنے والے کتے کے علاوہ کتا رکھا، اس کے نیک اعمال سے ہر روز ایک قیراط کی کمی کی جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (1575)، (تحفة الأشراف: 13346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4294
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکاری کتے یا کھیتی اور جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو اس کے عمل (اجر) میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4294]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے شکار یا کھیتی یا جانوروں کے کتے کے علاوہ کوئی کتا رکھا، اس کے اعمال صالحہ سے ہر روز ایک قیراط کی کمی ہوتی رہے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (البیوع31) (1575) سنن ابی داود/الصید 1(2844)، سنن الترمذی/الصید4(1490)، (تحفة الأشراف: 15271)، مسند احمد (2/267، 345) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم