🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : ميتة البحر
باب: مردہ سمندری جانوروں کی حلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4357
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ، أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ , فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، قَالَ: فَأَلْقَى الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ فَثَابَتْ أَجْسَامُنَا، وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلْعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ جَمَلٍ، وَأَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ فَمَرَّ تَحْتَهُ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ"؟، قَالَ: فَأَخْرَجْنَا مِنْ عَيْنَيْهِ كَذَا وَكَذَا، قُلَّةً مِنْ وَدَكٍ، وَنَزَلَ فِي حَجَّاجِ عَيْنِهِ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ، وَكَانَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ جِرَابٌ فِيهِ تَمْرٌ فَكَانَ يُعْطِينَا الْقَبْضَةَ، ثُمَّ صَارَ إِلَى التَّمْرَةِ، فَلَمَّا فَقَدْنَاهَا وَجَدْنَا فَقْدَهَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، ہم قریش کی گھات میں تھے، چنانچہ ہم سمندر کے کنارے ٹھہرے، ہمیں سخت بھوک لگی یہاں تک کہ ہم نے درخت کے پتے کھائے، اتنے میں سمندر نے ایک جانور نکال پھینکا جسے عنبر کہا جاتا ہے، ہم نے اسے آدھے مہینہ تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا، تو ہمارے بدن صحیح ثابت ہو گئے، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی لی پھر فوج میں سے سب سے لمبے شخص کو اونٹ پر بٹھایا، وہ اس کے نیچے سے گزر گیا، پھر ان لوگوں کو بھوک لگی، تو ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کئے، پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا، (سفیان کہتے ہیں: ابوالزبیر جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں)، پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: کیا اس کا کچھ بقیہ تمہارے پاس ہے؟ پھر ہم نے اس کی آنکھوں کی چربی کا اتنا اتنا گھڑا (بھرا ہوا) نکالا اور اس کی آنکھ کے حلقے میں سے چار لوگ نکل گئے، ابوعبیدہ کے ساتھ ایک تھیلا تھا، جس میں کھجوریں تھیں وہ ہمیں ایک مٹھی کھجور دیتے تھے پھر ایک ایک کھجور ملنے لگی، جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کے نہ ملنے کا احساس ہوا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4357]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو اونٹ سواروں کو (ساحل کی طرف) بھیجا۔ ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم قریش کے ایک قافلے کی گھات میں تھے۔ ہم ساحل پر جا ٹھہرے۔ ہمیں سخت بھوک کا سامنا تھا حتیٰ کہ ہم پتے کھانے لگے، پھر سمندر (کی لہروں) نے ایک آبی جانور (ساحل پر) پھینک دیا۔ اس کو «عَنْبَر» عنبر کہا جاتا تھا۔ ہم اس سے تقریباً نصف ماہ کھاتے رہے۔ ہم نے اس کی چربی کو بھی خوب استعمال کیا تو ہمارے جسم پہلے کی طرح موٹے تازے ہو گئے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا، پھر لشکر میں سے سب سے اونچا اونٹ اور سب سے لمبا آدمی تلاش کیا۔ وہ آدمی اس اونٹ پر سوار ہو کر پسلی کے نیچے سے صاف گزر گیا۔ (اسی سفر کا واقعہ ہے کہ) پھر لوگ بھوک میں مبتلا ہوئے تو ایک آدمی نے تین اونٹ نحر کیے، پھر انہیں بھوک لگی تو مزید تین اونٹ نحر کر دیے، وہ پھر بھوک کا شکار ہوئے تو اسی نے مزید تین اونٹ نحر کر دیے، وہ پھر بھوک کا شکار ہوئے تو اسی نے مزید تین اونٹ نحر کیے، پھر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے (بحیثیت امیر) اسے روک دیا۔ (راوی حدیث) سفیان نے ابو زبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا (انہوں نے فرمایا کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور) ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے متعلق) پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس جانور کا کچھ گوشت باقی ہے؟ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ہم نے اس آبی جانور کی آنکھوں سے بہت سے مٹکے چربی کے نکالے اور اس کی آنکھ کے گڑھے میں چار آدمی باآسانی اتر گئے۔ اور (اسی سفر کا واقعہ ہے کہ) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کھجوروں کی تھیلی تھی جس میں سے وہ ہمیں مٹھی مٹھی دیا کرتے تھے، پھر نوبت ایک ایک کھجور تک آگئی۔ جب کھجوریں بالکل ختم ہو گئیں تو (اس وقت) ہمیں ایک کھجور کی قدر و قیمت معلوم ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 65 (4361)، الصید 12 (5494)، صحیح مسلم/الصید 3 (1935)، (تحفة الأشراف: 2529، 2770)، مسند احمد (3/308)، سنن الدارمی/الصید 6 (2055) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں واقعات کی ترتیب آگے پیچھے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4358
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ فِي سَرِيَّةٍ، فَنَفِدَ زَادُنَا فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَ بِهِ الْبَحْرُ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ، فَنَهَانَا أَبُو عُبَيْدَةَ، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ كُلُوا. فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سریے (فوجی مہم) میں بھیجا، ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا، ہمارا گزر ایک مچھلی سے ہوا جسے سمندر نے باہر نکال پھینکا تھا۔ ہم نے چاہا کہ اس میں سے کچھ کھائیں تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے روکا، پھر کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے ہیں اور اللہ کے راستے میں نکلے ہیں، تم لوگ کھاؤ، چنانچہ ہم نے کچھ دنوں تک اس میں سے کھایا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا: اگر تمہارے ساتھ (اس میں سے) کچھ باقی ہو تو اسے ہمارے پاس بھیجو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4358]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت ایک لشکر میں بھیجا۔ ہمارا زاد ختم ہو گیا۔ ہم ایک مچھلی کے پاس سے گزرے جسے سمندر نے (ساحل پر) پھینک دیا تھا۔ ہم نے اس میں سے کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں روک دیا، پھر خود ہی کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں آئے ہیں، اس لیے کھا لو۔ ہم کئی دن تک اس میں سے کھاتے رہے۔ جب ہم واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس کچھ گوشت باقی ہے تو ہمارے پاس بھی بھیجو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2992)، مسند احمد (3/303) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حلال قرار دیا تبھی تو اس میں سے طلب فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4359
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَأَعْطَانَا قَبْضَةً قَبْضَةً، فَلَمَّا أَنْ جُزْنَاهُ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ، وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ، فَلَمَّا فَقَدْنَاهَا وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَخْبِطُ الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا وَنَسَفُّهُ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى سُمِّينَا جَيْشَ الْخَبَطِ، ثُمَّ أَجَزْنَا السَّاحِلَ فَإِذَا دَابَّةٌ مِثْلُ الْكَثِيبِ , يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ لَا تَأْكُلُوهُ". ثُمَّ قَالَ جَيْشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَنَحْنُ مُضْطَرُّونَ، كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَجَعَلْنَا مِنْهُ وَشِيقَةً، وَلَقَدْ جَلَسَ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، قَالَ: فَأَخَذَ أبُو عُبَيْدَةَ ضِلْعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَرَحَلَ بِهِ أَجْسَمَ بَعِيرٍ مِنْ أَبَاعِرِ الْقَوْمِ فَأَجَازَ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا حَبَسَكُمْ"، قُلْنَا: كُنَّا نَتَّبِعُ عِيرَاتِ قُرَيْشٍ، وَذَكَرْنَا لَهُ مِنْ أَمْرِ الدَّابَّةِ، فَقَالَ:" ذَاكَ رِزْقٌ رَزَقَكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، أَمَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟"، قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ایک فوجی مہم میں) بھیجا، ہم تقریباً تین سو دس لوگ تھے، ہمیں توشہ کے بطور کھجور کا ایک تھیلا دیا گیا، وہ ہمیں ایک ایک مٹھی دیتے، پھر جب ہم اکثر کھجوریں کھا چکے تو ہمیں ایک ایک کھجور دینے لگے، یہاں تک کہ ہم اسے اس طرح چوستے جیسے بچہ چوستا ہے اور اس پر پانی پی لیتے، جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں ختم ہونے پر اس کی قدر معلوم ہوئی، نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہم اپنی کمانوں سے پتے جھاڑتے اور اسے چبا کر پانی پی لیتے، یہاں تک کہ ہماری فوج کا نام ہی جیش الخبط (یعنی پتوں والا لشکر) پڑ گیا، پھر جب ہم سمندر کے کنارے پر پہنچے تو ٹیلے کی طرح ایک جانور پڑا ہوا پایا جسے عنبر کہا جاتا ہے، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مردہ ہے مت کھاؤ، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور ہم مجبور ہیں، اللہ کا نام لے کر کھاؤ، چنانچہ ہم نے اس میں سے کھایا اور کچھ گوشت بھون کر سکھا کر رکھ لیا، اس کی آنکھ کی جگہ میں تیرہ لوگ بیٹھے، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی لی پھر کچھ لوگوں کو اونٹ پر سوار کیا تو وہ اس کے نیچے سے گزر گئے، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ ہم نے عرض کیا: ہم قریش کے قافلوں کا پیچھا کر رہے تھے، پھر ہم نے آپ سے اس جانور (عنبر مچھلی) کا معاملہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخشا ہے، کیا اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4359]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا، ہم تین سو دس سے زائد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھجوروں کی ایک بوری بطور زادِ راہ دی تھی، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روزانہ ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے تھے، جب ہم نے انہیں تقریباً ختم کر دیا تو وہ ہمیں ایک ایک کھجور دینے لگے حتیٰ کہ ہم اسے بچوں کی طرح چوستے رہتے اور اوپر سے پانی پی لیتے، جب کھجوریں بالکل ختم ہو گئیں تو ایک کھجور کا نہ ملنا بھی ہم کو محسوس ہوتا تھا حتیٰ کہ ہم اپنی لاٹھیوں سے درختوں کے پتے جھاڑ لیتے اور انہیں پھانک لیتے، پھر اوپر سے پانی پی لیتے حتیٰ کہ ہمارے اس لشکر کا نام ہی پتوں والا لشکر رکھ دیا گیا، پھر ہم ساحل پر پہنچے تو وہاں ٹیلے جیسا ایک آبی جانور پڑا تھا جسے عنبر کہا جاتا تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مرا ہوا ہے، لہٰذا اسے نہ کھاؤ، پھر خود ہی کہنے لگے: ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جا رہے ہیں، پھر ہم لاچار بھی ہیں، اس لیے اللہ کا نام لے کر کھاؤ، ہم نے کچھ تو کھایا اور کچھ سکھا لیا، اس جانور کی آنکھ کے گڑھے میں تیرہ آدمی (آرام سے) بیٹھ گئے، پھر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی لی، پھر ایک موٹے اونچے اونٹ پر پالان کس کر (ایک لمبا تڑنگا آدمی بٹھا کر) اسے پسلی کے نیچے سے گزارا تو وہ صاف گزر گیا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اتنے دن کہاں رکے رہے؟ ہم نے عرض کی: ہم قریش کے تجارتی قافلوں کو تلاش کرتے رہے، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس آبی جانور کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مہیا فرمایا۔ کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2987) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں