سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : إباحة الذبح بالمروة
باب: دھاردار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4404
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّهُ أَصَابَ أَرْنَبَيْنِ، وَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهِ، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اصْطَدْتُ أَرْنَبَيْنِ , فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ , أَفَآكُلُ؟، قَالَ:" كُلْ".
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4404]
حضرت محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دو خرگوش پکڑے لیکن ان کو ذبح کرنے کے لیے انہیں کوئی چھری وغیرہ نہ ملی تو انہوں نے ان کو ایک تیز دھار پتھر سے ذبح کر دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کیے تھے لیکن مجھے کوئی چھری وغیرہ نہیں ملی جس سے ذبح کرتا، تو میں نے ایک تیز دھار پتھر سے ان کو ذبح کر دیا، کیا میں ان کو کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کھا لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4318 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4317
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ:" أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَنِي بِفَخِذَيْهَا وَوَرِكَيْهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مرالظہران میں میں نے ایک خرگوش کو چھیڑا اور اسے پکڑ لیا، میں اسے لے کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا، پھر مجھے اس کی دونوں رانیں اور پٹھے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4317]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مقامِ مر الظہران میں ہم ایک خرگوش کے پیچھے بھاگے، میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے لے کر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا، پھر اس کی چاروں ٹانگیں مجھے دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرما لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 5 (2572)، الصید 10 (5489)، 32 (5535)، صحیح مسلم/الصید 9 (1953)، سنن ابی داود/الأطعمة 27 (3791)، سنن الترمذی/الأطعمة 2 (1789)، سنن ابن ماجہ/الصید 17 (3243)، (تحفة الأشراف: 1629)، مسند احمد (3/118، 171، 191)، سنن الدارمی/الصید 7 92056) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”مرالظہران“ مکے سے کچھ دور ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4318
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ، وَدَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: أَصَبْتُ أَرْنَبَيْنِ فَلَمْ أَجِدْ مَا أُذَكِّيهِمَا بِهِ، فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ," فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا".
ابن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے دو خرگوش ملے، انہیں ذبح کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو میں نے انہیں سفید پتھر سے ذبح کر دیا ۱؎، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے انہیں کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4318]
حضرت ابن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دو خرگوش شکار کیے لیکن مجھے کوئی ایسی چیز نہ مل سکی جس سے میں انہیں ذبح کر سکتا تو میں نے انہیں ایک تیز دھار پتھر سے ذبح کر دیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے ”ان کے کھانے کا حکم دیا“ (کھانے کی اجازت دی)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 15 (2822)، سنن ابن ماجہ/الصید 17 (3244)، (تحفة الأشراف: 11224)، سنن الدارمی/الصید 7 (2057)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4404 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سفید پتھر نوک دار تھا، کسی بھی دھاردار یا نوکدار چیز سے جس سے خون بہہ جائے، ذبح کر دینے سے جانور کا ذبح کرنا شرع کے مطابق صحیح ہو گا اور اس کا کھانا حلال ہو گا، ذبح کا اصل مقصود اللہ کا نام لینا اور خون بہنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن