سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : بيع السنبل حتى يبيض
باب: پکنے سے پہلے بالی کو بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4555
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلَةِ حَتَّى تَزْهُوَ , وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ , نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائے، اور بالی کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ سفید پڑ جائے (یعنی پک جائے) اور آفت سے محفوظ ہو جائے۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4555]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”درخت کے پھل کی بیع کی جائے حتیٰ کہ وہ رنگ بدل جائے، اور سٹے کی بیع کی جائے کہ وہ سفید ہو جائے اور آفت سے محفوظ ہو جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے کو بھی روکا اور خریدنے والے کو بھی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 13 (1535)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3368)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1227)، (تحفة الأشراف: 7515)، مسند احمد (2/5) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس طرح کی بیع میں بھی وہی بات ہے جو پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع میں ہے، یعنی ہو سکتا ہے کہ کھیتی پکنے سے کسی آسمانی آفت کا شکار ہو جائے، تو خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3953
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَنَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ". رَوَاهُ أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ , وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ.
عبداللہ بن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کا پختہ ہو جانا واضح ہو جائے۔ نیز آپ نے مخابرہ یعنی زمین کو تہائی یا چوتھائی (پیداوار) کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ان سے روایت میں ان کے تلامذہ نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3953]
حضرت ابن عمر اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کی فروخت سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ وہ پک جائے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُخَابَرَةِ» ”مخابرہ“ سے بھی منع فرمایا ہے کہ زمین کو پیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض بٹائی پر دیا جائے۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے روایت کیا ہے اور اس حدیث میں اس پر اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، تحفة الأشراف: 2538) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4523
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک پختگی ظاہر نہ ہو جائے پھلوں کی بیع نہ کرو“، آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو (اس سے) منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4523]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھلوں کا سودا نہ کرو حتیٰ کہ ان کی صلاحیت معلوم ہو جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے کو بھی روکا اور خریدنے والے کو بھی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2214)، (تحفة الأشراف: 8302)، مسند احمد (2/ 123) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پھلوں کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اگر ان کو درخت پر بیچ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ پختگی ظاہر ہونے سے پہلے آندھی طوفان آئے اور سارے یا اکثر پھل برباد ہو جائیں اور خریدار کا نقصان ہو جائے، اور پختگی ظاہر ہونے کے بعد اگر آندھی طوفان آئے بھی تو کم پھل برباد ہوں گے، نیز پختہ پھل اگر گر بھی گئے تو خریدار کی قیمت بھر پیسہ نکل آئے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4524
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4524]
حضرت سالم کے والد محترم (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کی فروخت سے روکا حتیٰ کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 13 (1534)، (تحفة الأشراف: 6832)، مسند احمد (2/8) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4526
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: ہمارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: ”پھل مت بیچو یہاں تک کہ اس کی پختگی ظاہر ہو جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4526]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”پھل نہ بیچو حتیٰ کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7105) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح