سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب : الزيادة في الوزن
باب: تول (وزن) میں زیادہ کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4595
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" قَضَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَنِي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا قرض دیا اور مجھے مزید دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4595]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیمت ادا کی اور زائد بھی دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3668
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، قَالَ: وَتَرَكَ دَيْنًا، فَاسْتَشْفَعْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا، فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ، فَأَبَوْا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ وَأَصْنَافَهُ، ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ فِي أَعْلَاهُ، أَوْ فِي أَوْسَطِهِ، ثُمَّ قَالَ: كِلْ لِلْقَوْمِ، قَالَ: فَكِلْتُ لَهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ، ثُمَّ بَقِيَ تَمْرِي كَأَنْ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (ان کے والد) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ انتقال فرما کر گئے اور (اپنے ذمہ لوگوں کا) قرض چھوڑ گئے تو میں نے ان کے قرض خواہوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرض میں کچھ کمی کر دینے کی سفارش کرائی تو آپ نے ان سے کم کرانے کی گزارش کی، لیکن وہ نہ مانے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کو الگ الگ کر دو، عجوہ کو علیحدہ رکھو اور عذق بن زید اور دوسری قسموں کو الگ الگ کرے کے رکھو۔ پھر مجھے بلاؤ“، تو میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور سب سے اونچی والی ڈھیر پر یا بیچ والی ڈھیر پر بیٹھ گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو ناپ ناپ کر دو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں انہیں ناپ ناپ کر دینے لگا یہاں تک کہ میں نے سبھی کو پورا پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچی رہیں، ایسا لگتا تھا کہ میری کھجوروں میں کچھ بھی کمی نہیں آئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3668]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (میرے والد محترم) حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہما فوت ہو گئے اور بہت سا قرض اپنے ذمے چھوڑ گئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے قرض خواہوں سے سفارش فرمائیں کہ وہ ان کے ذمے کچھ قرض معاف کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا مگر ان لوگوں نے بات نہ مانی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ! ہر قسم کی کھجوریں الگ الگ رکھو۔ عجوہ الگ، عذق ابن زید الگ، اسی طرح دوسری، پھر مجھے پیغام بھیجنا۔“ میں نے اسی طرح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے اوپر یا درمیان میں بیٹھ گئے اور فرمایا: ”انہیں ماپ کر دو۔“ میں نے انہیں ماپ ماپ کر دینی شروع کر دیں حتیٰ کہ سب کو ان کا قرض پورا پورا ادا کر دیا، پھر بھی میری کھجوریں بچ گئیں گویا کہ ان میں کچھ بھی کمی نہ آئی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3666 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3669
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَى أَبِي تَمْرٌ، فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ، وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ نِصْفَهُ، وَتُؤَخِّرَ نِصْفَهُ؟ فَأَبَى الْيَهُودِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْجِدَادَ فَآذِنِّي؟ فَآذَنْتُهُ، فَجَاءَ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، فَجَعَلَ يُجَدُّ وَيُكَالُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى وَفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ، فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا، ثُمَّ قَالَ: هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ذمہ ایک یہودی کی کھجوریں تھیں، اور وہ جنگ احد میں قتل کر دیے گئے اور کھجوروں کے دو باغ چھوڑ گئے، یہودی کی کھجوریں دو باغوں کی کھجوریں ملا کر پوری پڑ رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہودی سے) فرمایا: ”کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم اس سال اپنے قرض کا آدھا لے لو اور آدھا دیر کر کے (اگلے سال) لے لو؟“، یہودی نے (ایسا کرنے سے) انکار کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے فرمایا:) ”کیا تم پھل توڑتے وقت مجھے خبر کر سکتے ہو؟“، تو میں نے آپ کو پھل توڑتے وقت خبر کر دی تو آپ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور (کھجور کے) نیچے سے نکال کر الگ کرنے اور ناپ ناپ کر دینے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی کے پھلوں سے اس کے پورے قرض کی ادائیگی کر دی، پھر میں ان دونوں حضرات کے پاس (بطور تواضع) تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا، تو ان لوگوں نے کھایا پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق تم لوگوں سے پوچھ تاچھ ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3669]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک یہودی نے میرے والد محترم سے کچھ کھجوریں لینی تھیں۔ وہ غزوہ احد کے دن شہید ہو گئے اور دو باغ چھوڑ گئے۔ لیکن (میرے اندازے کے مطابق) اس یہودی کا قرض دونوں باغوں کے پھل کے برابر تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: ”کیا تو اتنی رعایت کرے گا کہ نصف قرض اس سال لے لے اور نصف بعد میں لے لینا؟“ یہودی نے انکار کر دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب کھجوروں کی کٹائی پوری ہو جائے تو مجھے بتانا۔“ چنانچہ میں نے وقت پر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ نیچے سے کھجوریں ماپ ماپ کر دی جاتی رہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی سے ہم نے اسے اس کا قرض پورا کر دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے پاس تازہ کھجوریں اور پانی لایا۔ سب نے کھایا اور پیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2501)، مسند احمد 3/338، 351، 391) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح