سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب : بيع الطعام قبل أن يستوفى
باب: اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4600
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلہ خریدا تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4600]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے غلہ خریدا وہ اسے نہ بیچے حتیٰ کہ اسے اپنے قبضے میں لے لے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7251)، موطا امام مالک/البیوع 19 (41) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4599
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4599]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی غلہ (غذائی جنس) خریدے، وہ کسی کو فروخت نہ کرے حتیٰ کہ اسے (پورا پورا) اپنے قبضے میں لے لے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 51 (2126)، 54(2135)، 55 (2136)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1526)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3492)، سنن ابن ماجہ/التجارات 37 (2226)، (تحفة الأشراف: 8327)، موطا امام مالک/البیوع 19 (40)، مسند احمد (1/56، 62)، سنن الدارمی/البیوع 25 (2602) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خرید و فروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو خریدار جب تک بیچنے والے سے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے دوسرے سے نہ بیچے، اور یہ تحویل و تملک اور قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہو گا، نیز اس سلسلے میں ہر علاقہ کے عرف (رسم رواج) کا اعتبار بھی ہو گا کہ وہاں کس چیز پر کیسے قبضہ مانا جاتا ہے، البتہ منقولہ چیزوں کے سلسلے میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو بیچنے والے کی جگہ سے خریدار اپنی جگہ میں منتقل کر لے، یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے، اور اندازہ والی چیز کی جگہ بدل لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4608
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی ناپ کر خریدا ہوا اناج بیچے جب تک کہ اسے پورا پورا اپنی تحویل میں نہ لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4608]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ: ”کوئی شخص ماپ کر خریدے ہوئے غلے کو قبضے میں لینے سے پہلے بیچے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 67 (3495)، (تحفة الأشراف: 7375)، مسند احمد (2/111) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3495) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
حدیث نمبر: 4609
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ:" كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ , فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَا فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اناج خریدتے تھے، پھر آپ ایک شخص کو ہمارے پاس بھیجتے جو ہمیں حکم دیتا کہ اسے اس جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کر لے جہاں سے ہم نے خریدا ہے قبل اس کے کہ ہم اسے فروخت کریں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4609]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں ہم غلہ خریدتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس شخص کو بھیجتے تھے جو ہمیں حکم دیتا تھا کہ ”اسے آگے بیچنے سے پہلے اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل کیا جائے جہاں پر خریدا گیا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 8 (1527)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3493)، (تحفة الأشراف: 8371)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 54 (2131)، 56 (2137)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2222)، موطا امام مالک/البیوع 19 (42)، مسند احمد (1/56، 112) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4610
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْتَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى السُّوقِ جُزَافًا , فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بازار کی اونچی جگہ پر ڈھیر خریدا کرتے تھے تو آپ نے انہیں اسے اسی جگہ بیچنے سے روکا جب تک کہ وہ اسے منتقل نہ کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4610]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بازار کے آخر میں غلہ بغیر ماپے خریدا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اسی جگہ بیچنے سے منع فرما دیا حتیٰ کہ اسے منتقل کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 72 (2167)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3494)، (تحفة الأشراف: 8154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4611
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ:" أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّكْبَانِ , فَنَهَاهُمْ أَنْ يَبِيعُوا فِي مَكَانِهِمُ الَّذِي ابْتَاعُوا فِيهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ سواروں سے اناج (غلہ) خریدتے تھے تو آپ نے انہیں اسی جگہ بیچنے سے روکا جہاں انہوں نے اسے خریدا تھا، یہاں تک کہ وہ اسے غلہ منڈی منتقل کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4611]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگ تجارتی قافلوں سے غلہ خریدتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا کہ ”وہ اسے اسی جگہ فروخت کریں جہاں وہ خریدا گیا تھا یہاں تک کہ وہ اسے غلہ منڈی میں منتقل کر لیں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8425) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح