سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. باب : البيع يكون فيه الشرط فيصح البيع والشرط
باب: بیع میں جائز شرط ہو تو بیع اور شرط دونوں صحیح ہیں۔
حدیث نمبر: 4642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا , ثُمَّ ذَكَرْتُ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ , ثُمَّ ذَكَرَ كَلَامًا مَعْنَاهُ , فَأُزْحِفَ الْجَمَلُ فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْتَشَطَ حَتَّى كَانَ أَمَامَ الْجَيْشِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ , مَا أَرَى جَمَلَكَ إِلَّا قَدِ انْتَشَطَ" , قُلْتُ: بِبَرَكَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" بِعْنِيهِ , وَلَكَ ظَهْرُهُ حَتَّى تَقْدَمَ" , فَبِعْتُهُ وَكَانَتْ لِي إِلَيْهِ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ وَلَكِنِّي اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ , فَلَمَّا قَضَيْنَا غَزَاتَنَا وَدَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُهُ بِالتَّعْجِيلِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ , قَالَ:" أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا؟" , قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا , يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أُصِيبَ وَتَرَكَ جَوَارِيَ أَبْكَارًا , فَكَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ , فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا , تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ فَأَذِنَ لِي , وَقَالَ لِي:" ائْتِ أَهْلَكَ عِشَاءً" , فَلَمَّا قَدِمْتُ أَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِي الْجَمَلَ فَلَامَنِي , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَوْتُ بِالْجَمَلِ , فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ وَالْجَمَلَ وَسَهْمًا مَعَ النَّاسِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سینچائی کرنے والے اونٹ پر بیٹھ کر جہاد کیا، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، پھر ایک چیز کا تذکرہ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ تھک گیا تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا تو وہ تیز ہو گیا یہاں تک کہ سارے لشکر سے آگے نکل گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! تمہارا اونٹ تو لگ رہا ہے کہ بہت تیز ہو گیا ہے“، میں نے عرض کیا: آپ کے ذریعہ سے ہونے والی برکت سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اسے، میرے ہاتھ بیچ دو۔ البتہ تم (مدینہ) پہنچنے تک اس پر سوار ہو سکتے ہو“، چنانچہ میں نے اسے بیچ دیا حالانکہ مجھے اس کی سخت ضرورت تھی۔ لیکن مجھے آپ سے شرم آئی۔ جب ہم غزوہ سے فارغ ہوئے اور (مدینے کے) قریب ہوئے تو میں نے آپ سے جلدی سے آگے جانے کی اجازت مانگی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ابھی جلد شادی کی ہے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا: بیوہ سے، اللہ کے رسول! والد صاحب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مارے گئے اور انہوں نے کنواری لڑکیاں چھوڑی ہیں، تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں ان کے پاس ان جیسی (کنواری لڑکی) لے کر آؤں، لہٰذا میں نے بیوہ سے شادی کی ہے جو انہیں تعلیم و تربیت دے گی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی اور مجھ سے فرمایا: ”اپنی بیوی کے پاس شام کو جانا“، جب میں مدینے پہنچا تو میں نے اپنے ماموں کو اونٹ بیچنے کی اطلاع دی، تو انہوں نے مجھے ملامت کی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو میں صبح کو اونٹ لے کر آپ کے پاس گیا، تو آپ نے مجھے اونٹ کی قیمت ادا کی اور اونٹ بھی دے دیا اور (مال غنیمت میں سے) ایک حصہ سب لوگوں کے برابر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4642]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے پانی والے اونٹ پر ایک جنگ میں گیا، پھر انھوں نے لمبی حدیث بیان کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ (واپسی کے دوران میں) اونٹ تھک کر رک گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ڈانٹا تو وہ اتنا تیز ہو گیا کہ سب لشکر سے آگے نکل گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! میں دیکھ رہا ہوں کہ تیرا اونٹ بہت تیز ہو گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے بیچ دے۔ تجھے (مدینہ منورہ تک) سوار ہو کر جانے کی اجازت ہو گی۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا جبکہ مجھے اس کی سخت ضرورت تھی، لیکن مجھے شرم محسوس ہوئی (کہ آپ کو انکار کروں)۔ غزوے کی تکمیل کے بعد جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی جانے کی اجازت طلب کی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! شوہر دیدہ سے۔ وجہ یہ ہے کہ (میرے والد) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور وہ چھوٹی چھوٹی کنواری بیٹیاں چھوڑ گئے۔ میں نے ناپسند کیا کہ میں ان جیسی (نوجوان لڑکی) لے آؤں، اس لیے میں نے ایک شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ) سے شادی کی جو ان کو علم و ادب سکھائے۔ خیر! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شام کے وقت گھر پہنچ جانا۔“ جب میں آیا تو میں نے اپنے ماموں کو اونٹ کے فروخت کرنے کا بتایا۔ انھوں نے مجھے ملامت کی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح کے وقت اونٹ لے کر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹ کی قیمت بھی دی، اونٹ بھی دیا اور لوگوں کے برابر حصہ بھی دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3221
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ" , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟" فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا، تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نکاح کیا، اور (اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”جابر! کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ نے کہا: ”کنواری سے (شادی کی ہے) یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے“، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3221]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شادی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”جابر! شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ شادی کی۔ تو اس سے دل لگی کرتا، وہ تجھ سے دل لگی کرتی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 43 (2097)، الوکالة 8 (2309)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، (تحفة الأشراف: 2512)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 3 (2048)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، مسند احمد (3/294، 302، 314، 362، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3222
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ , هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي؟" قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا؟" قُلْتُ: أَيِّمًا؟ قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی؟“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3222]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور کہنے لگے: ”جابر! تو نے میرے بعد (میری عدم موجودگی میں) شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ شادی کی؟ وہ تجھ سے جی بھر کر پیار کرتی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2465) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3228
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ" , قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ , قَالَ:" فَذَاكَ إِذًا إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ ۱؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے (جوانی کے) کھیل کھلاتی“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے (کنواری نکاح کر کے لانے میں) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ (اور دوری کا باعث) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3228]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت سے نکاح کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: ”جابر! تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی؟ وہ تجھ سے دل لگی کرتی۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری کئی بہنیں ہیں۔ میں نے خدشہ محسوس کیا کہ کنواری عورت میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر ٹھیک ہے۔ عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے یا مال و جمال کی وجہ سے۔ تو دین والی عورت کو پسند کر۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 15 (715)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، (تحفة الأشراف: 2436)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 4 (1086)، مسند احمد (3/302)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس کا نکاح پہلے کسی سے ہو چکا تھا پھر اس کی طلاق ہو گئی یا شوہر کا انتقال ہو گیا ہو۔ ۲؎: یعنی اگر ایسا نہ کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4641
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَعْيَا جَمَلِي فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ , فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُ , فَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ , فَقَالَ:" بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" بِعْنِيهِ" , فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ , وَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ , فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ وَابْتَغَيْتُ ثَمَنَهُ , ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ , فَقَالَ:" أَتُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میرا اونٹ تھک کر چلنے سے عاجز آ گیا، تو میں نے چاہا کہ اسے چھوڑ دوں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ ملے، آپ نے اس کے لیے دعا کی اور اسے تھپتھپایا، اب وہ ایسا چلا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا، آپ نے فرمایا: ”اسے ایک اوقیہ (۴۰ درہم) میں مجھ سے بیچ دو“، میں نے کہا: نہیں (بلکہ وہ آپ ہی کا ہے)، آپ نے فرمایا: ”اسے مجھ سے بیچ دو“ تو میں نے ایک اوقیہ میں اسے آپ کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط لگائی ۱؎، جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا اور اس کی قیمت چاہی، پھر میں لوٹا تو آپ نے مجھے بلا بھیجا، اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے کم قیمت لگائی تاکہ میں تمہارا اونٹ لے سکوں، لو اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4641]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میرا اونٹ چلنے سے عاجز آ گیا۔ میں نے سوچا، اسے (وہیں) چھوڑ دوں۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پیچھے سے آ ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا بھی فرمائی اور اسے مارا بھی۔ پھر تو وہ ایسے چلنے لگا کہ (ساری زندگی) کبھی ایسا نہیں چلا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ ایک اوقیہ (چالیس درہم) میں مجھے بیچ دے۔“ تو میں نے وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اوقیے میں بیچ دیا اور میں نے مدینہ منورہ تک سوار ہو کر جانے کی شرط لگا لی۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمت طلب کی۔ میں قیمت لے کر واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس بلا بھیجا اور فرمایا: ”کیا تو سمجھتا ہے کہ میں نے تیرا اونٹ لینے کے لیے تجھے کم قیمت دی ہے؟ اپنا اونٹ بھی لے جا اور قیمت بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 34 (2097)، الاستقراض 1 (2385)، 18 (2406)، المظالم 26 (2470)، الشروط 4 (2718)، الجہاد 49 (2861)، 113 (2967)، صحیح مسلم/البیوع 42 (المساقاة 21) (715)، الرضاع 16 (715)، سنن ابی داود/البیوع 71 (3505)، سنن الترمذی/البیوع 30 (1253)، (تحفة الأشراف: 2341)، مسند احمد (3/299) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ جائز شرط تھی اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر معاملہ کر لیا، یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ , فَقَالَ:" مَا لَكَ فِي آخِرِ النَّاسِ؟" , قُلْتُ: أَعْيَا بَعِيرِي فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ ثُمَّ زَجَرَهُ , فَإِنْ كُنْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يُهِمُّنِي رَأْسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ , قَالَ:" مَا فَعَلَ الْجَمَلُ بِعْنِيهِ؟" , قُلْتُ: لَا , بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" لَا , بَلْ بِعْنِيهِ" , قُلْتُ: لَا , بَلْ هُوَ لَكَ , قَالَ:" لَا , بَلْ بِعْنِيهِ , قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ ارْكَبْهُ , فَإِذَا قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ فَأْتِنَا بِهِ" , فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُهُ بِهِ , فَقَالَ لِبِلَالٍ:" يَا بِلَالُ , زِنْ لَهُ أُوقِيَّةً , وَزِدْهُ قِيرَاطًا" , قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُفَارِقْنِي , فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ , فَأَخَذُوا مِنَّا مَا أَخَذُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں ایک اونٹ پر سوار تھا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم سب سے پیچھے میں ہو؟“ میں نے عرض کیا: میرا اونٹ تھک گیا ہے، آپ نے اس کی دم کو پکڑا اور اسے ڈانٹا، اب حال یہ تھا کہ میں سب سے آگے تھا، (ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے اونٹ سے آگے بڑھ جائے اس لیے) مجھے اس کے سر سے ڈر ہو رہا تھا، تو جب ہم مدینے سے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ کا کیا ہوا؟ اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”نہیں، اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے، آپ نے کہا: ”نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو، میں نے اسے ایک اوقیہ میں لے لیا، تم اس پر سوار ہو اور جب مدینہ پہنچ جاؤ تو اسے ہمارے پاس لے آنا“، جب میں مدینے پہنچا تو اسے لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! انہیں ایک اوقیہ (چاندی) دے دو اور ایک قیراط مزید دے دو“، میں نے عرض کیا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زیادہ دیا ہے، (یہ سوچ کر کہ) وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہو، تو میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھا، پھر وہ قیراط میرے پاس برابر رہا یہاں تک کہ حرہ کے دن ۱؎ اہل شام آئے اور ہم سے لوٹ لے گئے جو لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4643]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں ایک اونٹ پر سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے تو سب سے آخر میں ہے؟“ میں نے کہا: میرا اونٹ چلنے سے عاجز آ چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دم پکڑ کر اسے ڈانٹا۔ پھر تو وہ اتنا آگے چلا گیا کہ مجھے اس کا سر سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ جب ہم مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے اونٹ کا کیا حال ہے؟ یہ مجھے بیچ دے۔“ میں نے کہا: یہ ویسے ہی آپ کا ہے۔ (بیچنے کی کیا ضرورت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مجھے بیچ دے۔“ میں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ ویسے ہی آپ کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مجھے بیچ دے۔ میں نے یہ ایک اوقیے میں لے لیا۔ ہاں، تو سوار رہ، پھر جب تو مدینے پہنچ جائے تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ پھر جب میں مدینہ منورہ میں آیا تو میں اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! اس کو تو ایک اوقیہ (چالیس درہم) تول دے اور ایک قیراط اس کو زائد دے دے۔“ میں نے کہا: یہ قیراط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زائد دیا ہے، یہ کبھی بھی مجھ سے جدا نہیں ہو گا۔ میں نے اسے ایک تھیلی میں ڈال لیا۔ وہ ہمیشہ میرے پاس رہا، حتیٰ کہ حرہ والے دن شام والے آئے تو انہوں نے ہم سے جو چاہا، لوٹ لیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشروط 4 (2718 تعلیقًا)، صحیح مسلم/البیوع 42 (715)، (تحفة الأشراف: 2243)، مسند احمد (3/314) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ ۶۳ھ میں پیش آیا تھا، اس میں یزید کے لشکر نے مدینے پر چڑھائی کی تھی۔ حرہ کالے پتھروں والی زمین کو کہتے ہیں جو مدینے کے مشرقی اور مغربی علاقہ کی زمین ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4644
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكُنْتُ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا سَوْءٍ , فَقُلْتُ: لَا يَزَالُ لَنَا نَاضِحُ سَوْءٍ يَا لَهْفَاهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَبِيعُنِيهِ , يَا جَابِرُ؟" , قُلْتُ: بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا , وَقَدْ أَعَرْتُكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ" , فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ هَيَّأْتُهُ , فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ , فَقَالَ:" يَا بِلَالُ أَعْطِهِ ثَمَنَهُ" , فَلَمَّا أَدْبَرْتُ دَعَانِي فَخِفْتُ أَنْ يَرُدَّهُ , فَقَالَ:" هُوَ لَكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا کہ میں اپنے سینچنے والے اونٹ پر سوار تھا، میں نے عرض کیا: افسوس! ہمارے پاس ہمیشہ پانی سینچنے والا اونٹ ہی رہتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! کیا تم اسے میرے ہاتھ بیچو گے؟“ میں نے عرض کیا: یہ تو آپ ہی کا ہے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی مغفرت کر، اس پر رحم فرما، میں نے تو اسے اتنے اتنے دام پر لے لیا ہے، اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی تمہیں اجازت دی ہے“، جب میں مدینے آیا تو اسے تیار کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! انہیں اس کی قیمت دے دو“، جب میں لوٹنے لگا تو آپ نے مجھے بلایا، مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ اسے لوٹائیں گے، آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4644]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تو میں اپنے ایک پانی بھرنے والے بدمزاج اونٹ پر سوار تھا۔ میں نے (افسوس کرتے ہوئے) کہا: افسوس! پانی کا نکما اونٹ ہمیشہ ہمارے پاس رہتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! کیا تو مجھے یہ اونٹ فروخت کرے گا؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ویسے ہی آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اس کو معاف فرما، اس پر رحم فرما۔“ پھر فرمایا: ”میں نے یہ اتنے اتنے میں خرید لیا، ویسے میں مدینہ منورہ تک اس کی سواری کی تجھے اجازت دیتا ہوں۔“ جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو میں نے اس اونٹ کو تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! اس کو اس اونٹ کی قیمت دے دو۔“ جب میں واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مجھے خطرہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ واپس فرما دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ تیرا ہی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردہ بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2769) (ضعیف) (سند ضعیف ہے، اور متن منکر ہے، اس لیے کہ اس کے راوی ابو زبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کے متن میں پچھلے متن سے تعارض بھی ہے جو واضح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد منكر المتن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4645
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنَّا نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , هُوَ لَكَ , قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: وَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ: افْعَلْ كَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، میں سینچائی کرنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے“، میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہی ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے“، میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے نبی! وہ آپ ہی کا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے“، میں نے عرض کیا: ہاں، وہ آپ ہی کا ہے۔ ابونضرہ کہتے ہیں: یہ مسلمانوں کا تکیہ کلام تھا کہ جب کسی سے کہتے: ایسا ایسا کرو تو کہتے: «واللہ یغفر لک» ۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4645]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، میں اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر سوار تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اپنا یہ اونٹ مجھے اتنے اتنے میں فروخت کرے گا؟ «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے۔“”میں نے کہا: اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہی ہے۔ پھر فرمایا: ”مجھے اتنے اتنے میں فروخت کرے گا؟ «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے۔“”میں نے کہا: اللہ کے نبی! یقیناً یہ آپ کا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تو یہ اونٹ مجھے اتنے میں فروخت کرے گا؟ «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تجھے معاف فرمائے۔“”میں نے کہا: جی ہاں، وہ آپ کا ہی ہے۔ راوی ابونضرہ نے کہا کہ ( «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» اللہ تجھے معاف کرے) ایک کلمہ ہے جو مسلمان عموماً کہتے تھے: تو یہ کام کر لے، «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» اللہ تجھے معاف کرے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشروط 4 (2718 تعلیقًا)، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن ابن ماجہ/التجارات 29 (2205)، (تحفة الأشراف: 3101)، مسند احمد (3/373) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح