🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : القسامة
باب: قسامہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4713
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ:" كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي وُجِدَ مَقْتُولًا فِي جُبِّ الْيَهُودِ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: الْيَهُودُ قَتَلُوا صَاحِبَنَا".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ قسامہ جاہلیت میں رائج تھا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری کے سلسلے میں باقی رکھا جو یہودیوں کے کنویں میں مرا ہوا پایا گیا تو انصار نے کہا: ہمارے آدمیوں کا قتل یہودیوں نے کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4713]
حضرت ابن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قسامت جاہلیت میں تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک انصاری کے بارے میں برقرار رکھا جو یہودیوں کے ایک کنویں میں مقتول پائے گئے تھے۔ انصار نے دعویٰ کر دیا تھا کہ یہودیوں نے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4711 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر مرفوع متصل ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4722
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ , قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ , وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَقَدِمَ مُحَيِّصَةُ، فَأَتَى هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ لِمَكَانِهِ مِنْ أَخِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرْ كَبِّرْ"، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ , وَمُحَيِّصَةُ، فَذَكَرُوا شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ؟"، قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَ بُشَيْرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ، خَالَفَهُمْ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ.
بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے، پھر وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا قتل ہو گیا، محیصہ رضی اللہ عنہ آئے تو وہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ مقتول کے بھائی ہونے کی وجہ سے بات کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو، چنانچہ حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے آدمی یا اپنے قاتل کے خون کے حقدار بنو؟۔ مالک کہتے ہیں: یحییٰ نے کہا: بشیر نے یہ بھی بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ سعید بن طائی نے ان راویوں کے برعکس بیان کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4722]
حضرت بشیر بن یسار رحمہ اللہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما اور حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر گئے اور اپنے اپنے کاموں میں ادھر ادھر ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما قتل کر دیے گئے۔ حضرت محیصہ رضی اللہ عنہما مدینہ منورہ آئے اور اپنے بھائی حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ اور (مقتول کے بھائی) حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہما سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (مقتول عبداللہ کے) بھائی ہونے کی وجہ سے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بات کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو پہلے بات کرنے دو۔ پھر حضرت حویصہ اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی اور حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما کا مسئلہ پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے مقتول کے خون یا اپنے قاتل کے مستحق بنتے ہو؟ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: بشیر بن یسار رحمہ اللہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے پاس (بیت المال) سے دیت ادا فرما دی۔ سعید بن عبید الطائی رحمہ اللہ نے ان (بشیر بن یسار سے روایت کرنے والوں) کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4714 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سعید بن طائی کی روایت میں مقتول کے اولیاء سے قسم کھانے کے بجائے گواہ پیش کرنے، پھر مدعی علیہم سے قسم کھلانے کا ذکر ہے۔ امام بخاری نے اسی روایت کو ترجیح دی ہے، (دیات ۲۲) بقول امام ابن حجر: بعض رواۃ نے گواہی کا تذکرہ نہیں کیا ہے اور بعض نے کیا ہے، بس اتنی سی بات ہے، حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گواہی طلب کی اور گواہی نہ ہونے پر قسم کی بات کہی، اور جب مدعی یہ بھی نہیں پیش کر سکے تو مدعا علیہم سے قسم کی بات کی، اس بات کی تائید عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اگلی روایت سے بھی ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں