سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : قتل المرأة بالمرأة
باب: عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4746
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ , فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا، وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ، فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ؟" , قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا , قَالَ:" فُلَانٌ؟" , قَالَ: حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ، قَالَتْ بِرَأْسِهَا: نَعَمْ، فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ،" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی نکلی وہ زیور ہار پہنے ہوئے تھی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور اس کا سر کچل دیا اور جو زیور وہ پہنے ہوئے تھی اسے لے لیا، پھر وہ پائی گئی، اس کی سانس چل رہی تھی، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے پوچھا: ”تمہیں کس نے قتل کیا؟“ کیا فلاں نے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا فلاں نے؟“ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام آیا، اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، تو اسے گرفتار کیا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دو پتھروں کے درمیان اس کا سر کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4746]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک لڑکی گھر سے نکلی، اس کے کانوں میں بالیاں تھیں، ایک یہودی نے اسے پکڑ لیا، اس کا سر کچلا اور زیورات اتار کر لے گیا۔ جب اس لڑکی کو دیکھا گیا تو اس میں کچھ جان باقی تھی، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں نے؟“ اس نے سر سے اشارہ کیا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”فلاں نے؟“ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا نام لیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہا۔ اس یہودی کو پکڑ کر لایا گیا، آخر اس نے تسلیم کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی اسی طرح دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، الدیات 4 (6876)، 12 (6884)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4527)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2665)، (تحفة الأشراف: 1391)، مسند احمد (3/183، 203، 269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4745
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا أَخَذَ أَوْضَاحًا مِنْ جَارِيَةٍ، ثُمَّ رَضَخَ رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَأَدْرَكُوهَا وَبِهَا رَمَقٌ , فَجَعَلُوا يَتَّبِعُونَ بِهَا النَّاسَ، هُوَ هَذَا، هُوَ هَذَا، قَالَتْ: نَعَمْ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا زیور لے لیا، اور پھر اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا، لوگوں نے اس عورت کو اس حال میں پایا کہ اس میں کچھ جان باقی تھی، وہ اسے لے کر لوگوں کے پاس پہنچے، یہ پوچھتے ہوئے: کیا اس نے مارا ہے، کیا اس نے مارا ہے، وہ بولی: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، پھر اس کا بھی سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4745]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کی بالیاں اتار لیں۔ پھر اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ لوگوں نے لڑکی کو دیکھا تو اس میں کچھ جان باقی تھی۔ وہ لوگ اس کے سامنے مختلف اشخاص کا نام لے کر پوچھنے لگے: وہ فلاں تھا؟ وہ فلاں تھا؟ آخر (اس یہودی کے نام) پر لڑکی نے ہاں کا اشارہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس یہودی کا سر بھی اسی طرح دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1140)، مسند احمد (3/262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح