سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : القصاص في السن
باب: دانت کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4759
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا , فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ"، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ , لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ , الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ"، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ , لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ، قَالَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ رضی اللہ عنہا ۱؎ نے ایک شخص کو زخمی کر دیا، وہ لوگ مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص ہو گا قصاص“، ام ربیع رضی اللہ عنہا بولیں: اللہ کے رسول! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا؟ نہیں، اللہ کی قسم! اس سے کبھی بھی قصاص نہ لیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی ذات پاک ہے، ام ربیع! قصاص تو اللہ کی کتاب کا حکم ہے“، وہ بولیں: نہیں، اس سے ہرگز قصاص نہ لیا جائے گا، وہ کہتی رہیں، یہاں تک کہ انہوں نے دیت قبول کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کو (قسم میں) سچا کر دیتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4759]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کر دیا۔ وہ یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص دینا ہوگا۔“ ربیع کی والدہ کہنے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ام حارثہ سے قصاص لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“! ام ربیع! قصاص تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔“ وہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! نہیں۔ اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ وہ اسی طرح کہتی رہیں حتیٰ کہ فریق ثانی نے دیت قبول کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ انھیں سچا کر دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، (تحفة الأشراف: 332)، مسند احمد (3/ 284) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں زخمی کرنے والی کا نام ربیع بنت نضر کی بہن ”ام حارثہ“ ہے اور اعتراض کرنے والی ربیع ہیں، جب کہ اگلی روایت میں زخمی کرنے کی نسبت خود ربیع بنت نضر کی طرف کی گئی ہے، اور اعتراض کرنے کی نسبت ان کے بھائی انس بن نضر کی طرف کی گئی ہے، حافظ ابن حزم وغیرہ علماء کی تحقیق کے مطابق یہ الگ الگ دو واقعات ہیں، حافظ ابن حجر کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے، (دیکھئیے کتاب الدیات باب ۱۹)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4760
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: ذَكَرَ أَنَسٌ: أَنَّ عَمَّتَهُ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَقَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ , فَقَالَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ , لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ، قَالَ: وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ سَأَلُوا أَهْلَهَا الْعَفْوَ وَالْأَرْشَ، فَلَمَّا حَلَفَ أَخُوهَا وَهُوَ عَمُّ أَنَسٍ وَهُوَ الشَّهِيدُ يَوْمَ أُحُدٍ رَضِيَ الْقَوْمُ بِالْعَفْوِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ ان کی پھوپھی نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ کیا، ان کے بھائی انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا فلاں کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، فلاں کے دانت نہیں توڑے جائیں گے، اور وہ لوگ اس سے پہلے اس کے گھر والوں سے معافی اور دیت کی بات کر چکے تھے، پھر جب ان کے بھائی نے قسم کھائی (وہ انس رضی اللہ عنہ کے چچا تھے، جو احد کے دن شہید ہوئے) تو وہ لوگ معاف کرنے پر راضی ہو گئے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ انہیں سچا کر دکھاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4760]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری پھوپھی نے ایک لڑکی کا سامنے والا دانت توڑ دیا، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ ان کے بھائی انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا نبی بنایا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ اس سے پہلے انہوں نے اس لڑکی کے گھر والوں سے معافی اور دیت کی گزارش کی تھی (مگر وہ نہ مانے تھے)۔ پھر جب ان کے بھائی، جو حضرت انس کے چچا تھے اور جنگ احد میں شہید ہوئے، نے قسم کھا لی تو وہ لوگ معافی پر راضی ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے (بلند مرتبہ) ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان (کی قسم) کو سچا کر دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 605) صحیح البخاری/ الصلح 8 (2703)، وتفسیر البقرة 23 (4500)، المائدة 6 (4611)، الدیات 19 (6894)، صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، سنن ابی داود/ الدیات 32 (4595)، سنن ابن ماجہ/الدیات 16 (4669)، مسند احمد 3/128، وانظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4761
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ , فَطَلَبُوا إِلَيْهِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا , فَعُرِضَ عَلَيْهِمُ الْأَرْشُ فَأَبَوْا , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ، قَالَ:" يَا أَنَسُ , كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ" , فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا، فَقَالَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، چنانچہ انہوں نے معاف کر دینے کی درخواست کی تو ان لوگوں نے انکار کیا، پھر ان کے سامنے دیت کی پیش کش کی گئی، تو انہوں نے اس کا بھی انکار کیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں قصاص کا حکم دیا، انس بن نضر رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کے رسول! کیا ربیع کے دانت توڑے جائیں گے؟ نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، وہ نہیں توڑے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے“، پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہیں معاف کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سچا کر دکھاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4761]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (میری پھوپھی) حضرت ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کا سامنے والا دانت توڑ دیا۔ ان کے رشتہ داروں نے لڑکی کے رشتہ داروں سے معافی مانگی، انہوں نے انکار کر دیا۔ انہیں دیت کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے پھر انکار کر دیا۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم جاری فرما دیا۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا! ہرگز نہیں توڑا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس! اللہ تعالیٰ کی کتاب تو قصاص کا حکم دیتی ہے۔“ اتنے میں فریق ثانی راضی ہو گیا اور انہوں نے معافی دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی لاج رکھ لیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 16 (2649)، (تحفة الأشراف: 636) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح