سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : اغتسال المرأة من الطيب
باب: مسجد جانے سے پہلے عورت نہا دھو کر اپنے جسم سے خوشبو زائل کرے۔
حدیث نمبر: 5130
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ غَيْرَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ ثِقَةٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلْتَغْتَسِلْ مِنَ الطِّيبِ كَمَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ" مُخْتَصَرٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت مسجد کے لیے نکلے تو خوشبو مٹانے کے لیے اس طرح غسل کرے جیسے غسل جنابت کرتی ہے“، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5130]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی عورت مسجد کو جانے لگے (اور اس نے پہلے خوشبو لگا رکھی ہو) تو وہ اچھی طرح غسل کرے، جیسے وہ غسل جنابت کرتی ہے۔“ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15507)، سنن ابی داود/فی الترجل7(4174)، وسنن ابن ماجہ/فی الفتن19 (4002)، وحم (2/297، 444، 461) بلفظ ’’لا تقبل صلاة لامرأة تطیب للمسجد حتی ترجع فتغسل غسلہا من الجنابة‘‘ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَلَى قَوْلِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَدْ خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ رَوَاهُ , عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت خوشبو لگائے ہو تو ہمارے ساتھ عشاء کی جماعت میں نہ آئے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے یزید بن خصیفہ کی بسر بن سعید سے روایت کرتے ہوئے «عن ابی ھریرہ» کہنے میں متابعت کی ہو۔ اس کے برعکس یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے اسے روایت کرنے میں «عن زینب الثقفیۃ» کہا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5131]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے خوشبو لگائی ہو، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے مسجد میں نہ آئے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یزید بن خصیفہ کی بسر بن سعید سے مروی روایت میں اس (یزید بن خصیفہ) کے قول «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» کی کسی نے متابعت نہیں کی بلکہ یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے اس کے برعکس ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بجائے اسے زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا کی مسند قرار دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 30 (444)، سنن ابی داود/الترجل 7 (4175)، (تحفة الأشراف: 12207)، مسند احمد (2/304)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5265 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یزید بن خصیفہ کی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، یہ بالکل ممکن ہے کہ روایت یزید کے پاس دونوں سندوں سے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت (خوشبو کی) دھونی لے تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے نہ آئے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5265]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت بھی خوشبو لگائے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے نہ آئے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5131 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن