🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب : تحريم الذهب على الرجال
باب: مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5152
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا". خَالَفَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ رَوَاهُ , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ.
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونا پہننے سے منع فرمایا مگر جب «مقطع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو (یا ٹکڑے ٹکڑے ہو) ۱؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) عبدالوہاب نے سفیان کے برخلاف اس حدیث کو خالد سے، خالد نے میمون سے اور میمون نے ابوقلابہ سے روایت کیا ہے، (یعنی: سند میں ایک راوی میمون کا اضافہ کیا ہے) [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5152]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر تھوڑا تھوڑا۔ عبدالوہاب نے اس (سفیان بن حبیب) کی مخالفت کی ہے۔ اس نے یہ روایت «عَنْ خَالِدٍ عَنْ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ» کی سند سے روایت کی ہے۔ (اس نے ابو قلابہ اور خالد حذاء کے درمیان میمون کا واسطہ بڑھا دیا ہے۔) واللہ أعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 8 (4239)، (تحفة الأشراف: 11421)، مسند احمد (4/92، 93) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”میمون“ لین الحدیث ہیں، اور ”ابو قلابہ‘‘ کا معاویہ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: «مقطع» کی ایک تفسیر «یسیر» (یعنی کم) بھی ہے، جب یہ معنی ہو تو یہ رخصت و اجازت عورتوں کے لیے ہے، مردوں کے لیے سونا مطلقا حرام ہے چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ۔ عورتوں کے لیے جنس سونا حرام نہیں سونے کی اتنی مقدار جس میں زکاۃ واجب نہیں وہ اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں، البتہ اس سے زائد مقدار ان کے لیے بھی مناسب نہیں کیونکہ بسا اوقات بخل کے سبب وہ زکاۃ نکالنے سے گریز کرنے لگتی ہیں جو ان کے گناہ اور حرج میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے، اور «مقطع» کا دوسرا معنی ریزہ ریزہ کا بھی ہے، اس کے لیے دیکھئیے حدیث نمبر ۵۱۳۹ کا حاشیہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5153
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا، وَعَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا، مگر ریزہ ریزہ کر کے اور سرخ گدوں پر بیٹھنے سے (بھی منع فرمایا)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5153]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے إلا یہ کہ مختلف جگہوں پر قلیل مقدار میں ہو اور ریشمی گدیلوں پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5154
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ , أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ , وَعِنْدَهُ جَمْعٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ابوشیخ سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ان کے پاس کے صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی تھی، انہوں نے کہا: کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر ریزہ ریزہ کر کے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5154]
حضرت ابوالشیخ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا جبکہ ان کے پاس بہت سے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے: کیا تم جانتے ہو کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ وہ مختلف جگہوں پر تھوڑا تھوڑا ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 23 (1794)، (تحفة الأشراف: 11456)، مسند احمد (4/92، 95، 98، 99)، ویأتي عندالمؤلف برقم: (5162) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5155
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ مُعَاوِيَةَ , فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ , إِذْ جَمَعَ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَلَى اخْتِلَافٍ بَيْنَ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ.
ابوشیخ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ حج میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اسی دوران انہوں نے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی اور ان سے کہا: کیا آپ کو نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ مگر ریزہ ریزہ کر کے۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یحییٰ بن ابی کثیر نے مطر کے خلاف روایت کی ہے جب کہ یحییٰ بن ابی کثیر کے شاگرد خود ان سے روایت کرنے میں مختلف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5155]
حضرت ابوالشیخ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے کسی حج کے دوران میں ہم ان کے ساتھ تھے کہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کو) سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ وہ مختلف جگہوں پر تھوڑا تھوڑا ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے مطر (الورق) کی مخالفت کی ہے، نیز اس (یحییٰ بن ابی کثیر) پر اس کے شاگردوں نے بھی اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5156
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، عَنْ أَبِي حِمَّانَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ عَامَ حَجَّ جَمَعَ نَفَرًا مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، خَالَفَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ رَوَاهُ , عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي شَيْخٍ، عَنْ أَخِيهِ حِمَّانَ.
ابوحمّان سے روایت ہے کہ جس سال معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا، اس سال کعبے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کو جمع کر کے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ وہ بولے: میں بھی اس کا گواہ ہوں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) حرب بن شداد نے اسے علی بن مبارک کے خلاف روایت کرتے ہوئے «عن یحییٰ عن ابی شیخ عن أخیہ» حمان کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5156]
حضرت ابو حمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ کو کعبہ میں جمع کیا اور فرمایا کہ میں تم سے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ ان سب نے فرمایا: جی ہاں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ حرب بن شداد نے اس (علی بن مبارک) کی مخالفت کی ہے، اس (حرب) نے یہ حدیث (اس طرح) بیان کی ہے: «عَنْ يَحْيَىٰ عَنْ أَبِي شَيْخٍ عَنْ أَخِيهِ حِمَّانَ» ۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5152 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ، عَنْ أَخِيهِ حِمَّانَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ عَامَ حَجَّ جَمَعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ , هَلْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لُبُوسِ الذَّهَبِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَلَى اخْتِلَافِ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ فِيهِ.
ابوشیخ کے بھائی حمان سے روایت ہے کہ جس سال معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا، صحابہ کرام کی ایک جماعت کو کعبے میں اکٹھا کر کے ان سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: میں بھی اس کا گواہ ہوں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اوزاعی نے حرب بن شداد کے خلاف روایت کی ہے جب کہ خود اوزاعی کے شاگرد ان سے روایت کرنے میں مختلف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5157]
حضرت حسان سے روایت ہے کہ جس سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج کو گئے، انہوں نے بہت سے اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں اکٹھے کر کے فرمایا: میں تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر پوچھتا ہوں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ اوزاعی نے اس (حرب بن شداد) کی مخالفت کی ہے، نیز اوزاعی کے شاگردوں نے اس پر اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5160
وَأَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، عَنْ عُقْبَةَ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي حِمَّانَ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَدَعَا نَفَرًا مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الذَّهَبِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ.
ابوحمان کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا، تو انصار کے کچھ لوگوں کو کعبے میں بلا کر کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا سے منع فرماتے نہیں سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ وہ بولے: اور میں بھی اس کا گواہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5160]
حضرت ابو حیان سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج کو گئے تو وہاں انہوں نے کعبہ میں انصار کی ایک جماعت کو بلایا اور فرمایا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونے کے استعمال سے منع فرماتے نہیں سنا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! (سنا ہے) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5162
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُمْ:" أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ"؟ فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:" وَنَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"، قَالُوا: نَعَمْ. خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ رَوَاهُ , عَنْ بَيْهَسٍ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، ان کے اردگرد مہاجرین و انصار کے کچھ لوگ تھے، معاویہ نے ان سے کہا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ بولے: اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے، مگر جب «مقطع» ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) علی بن غراب نے نضر بن شمیل کے خلاف اس حدیث کو بیھس سے انہوں نے ابوشیخ سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5162]
حضرت ابوشیخ ہنائی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا جبکہ ان کے اردگرد مہاجرین و انصار کے بہت سے لوگ تھے، انہوں نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ ان سب نے کہا: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ علی بن غراب نے اس (نضر بن شمیل) کی مخالفت کی ہے اور (اس حدیث کو) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مسند قرار دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5163
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو شَيْخٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ، إِلَّا مُقَطَّعًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ النَّضْرِ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوشیخ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ وہ «مقطع» ہو (تو جائز ہے)۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: نضر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے۔ (یعنی: بیھس کی سند سے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہونا زیادہ صواب ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5163]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے استعمال سے منع فرمایا الا یہ کہ وہ بکھرا ہوا ہو۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ نضر (ابن شمیل) کی حدیث زیادہ درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8588) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں