🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : حكم الحاكم في داره
باب: حاکم اپنے گھر میں رہ کر بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5410
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ , فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا , فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ , فَنَادَى:" يَا كَعْبُ"، قَالَ: لَبَّيْكَ , يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا" , وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّطْرِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" قُمْ فَاقْضِهِ".
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چنانچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا: کعب! وہ بولے: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اتنا قرض معاف کر دو اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا: میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد سے) کہا: اٹھو اور قرض ادا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن حدرد سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس کے ذمے تھا۔ ہماری آوازیں اونچی ہو گئیں حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سن لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اپنے حجرۂ مبارک کا پردہ ہٹایا اور بلند آواز سے فرمایا: اے کعب! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا معاف کر دے۔ اور ہاتھ سے نصف کا اشارہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا: میں نے مان لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن ابی حدرد سے) فرمایا: اٹھ اور باقی ادا کر۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 71 (457)، 73 (471)، الخصومات 4 (2418)، 9 (2424)، الصلح 10 (2706)، 14 (2710)، صحیح مسلم/البیوع 25 (المساقاة4) (1558)، سنن ابی داود/الأقضیة (3595)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2429)، (تحفة الأشراف: 11130)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 49 (2629) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5416
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ يَعْنِي دَيْنًا، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ"، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ , وَتَرَكَ نِصْفًا.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرضہ تھا، وہ راستے میں مل گئے تو انہیں پکڑ لیا، پھر ان دونوں میں تکرار ہو گئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ان کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: کعب! پھر اپنے ہاتھ سے ایک اشارہ کیا گویا آپ کہہ رہے تھے: آدھا، چنانچہ انہوں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5416]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہما کے ذمے قرض تھا، وہ انہیں ملے تو انہوں نے انہیں پکڑ لیا، پھر وہ دونوں جھگڑنے لگے حتیٰ کہ (ان کی) آوازیں بلند ہوئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور فرمایا: کعب! نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، مقصد یہ تھا کہ نصف معاف کر دیں، انہوں نے نصف لے لیا اور نصف معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں