سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : الاستعاذة من شر البصر
باب: آنکھ کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5458
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَلِسَانِي، وَقَلْبِي , وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي" يَعْنِي ذَكَرَهُ.
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے دعا سکھائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللہم عافني من شر سمعي وبصري ولساني وقلبي ومن شر منيي» اے اللہ! تو مجھے پناہ دے کان، نگاہ، زبان، دل اور منی (نطفہ) کی برائی سے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5458]
حضرت شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھلائیے جس سے میں فائدہ اٹھا سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! مجھے میرے کان، آنکھ، زبان، دل اور منی (یعنی شرم گاہ) کے شر سے محفوظ رکھ۔““ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5446 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5446
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنُ يَحْيَى، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ , قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ:" قُلْ: أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَشَرِّ بَصَرِي، وَشَرِّ لِسَانِي، وَشَرِّ قَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي"، قَالَ حَتَّى حَفِظْتُهَا. قَالَ سَعْدٌ: وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ.
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا تعوذ (شر و فساد سے بھاگ کر اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا) بتائیے، جس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: ” «أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان کی برائی سے، اپنے دل کی برائی سے، اپنی منی کی برائی سے“، شکل کہتے ہیں: یہاں تک کہ میں نے اسے یاد کر لیا۔ سعد کہتے ہیں: منی سے مراد نطفہ (پانی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5446]
حضرت شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! مجھے ایسے کلمات سکھا دیجیے جن کے ساتھ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”تو یہ کلمات کہہ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! میں اپنے کانوں، آنکھوں، زبان، دل اور منی کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔“”میں نے یہ کلمات یاد کر لیے۔ سعد (ابن اوس راوی حدیث) نے کہا کہ منی سے مراد نطفہ ہے (اس کی برائی یہ ہے کہ اسے حرام میں بہائے)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 367 (1551)، سنن الترمذی/الدعوات 75 (3492)، (تحفة الأشراف: 4847)، مسند احمد (3/429)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5457، 5458، 5486) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5457
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بلَالُ بْنُ يَحْيَى، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ , فَأَخَذَ بِيَدِي، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ: أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَشَرِّ بَصَرِي، وَشَرِّ لِسَانِي، وَشَرِّ قَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي"، قَالَ: حَتَّى حَفِظْتُهَا. قَالَ سَعْدٌ: وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ، خَالَفَهُ وَكِيعٌ فِي لَفْظِهِ.
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے تعوذ سکھائیے جس کے ذریعے میں اللہ کی پناہ مانگوں، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا: ”کہو، «أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي» میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کان کی برائی سے، آنکھ کے کی برائی سے، زبان کی برائی سے، دل کی برائی سے، منی کی برائی سے، یہاں تک کہ یہ چیز مجھے یاد ہو گئی، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: منی سے مراد نطفہ (پانی) ہے۔ وکیع نے الفاظ حدیث میں ابونعیم کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5457]
حضرت شکل بن حمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے ایسے کلمات سکھائیے جن کے ساتھ میں پناہ حاصل کیا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: ”(یوں) کہہ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! میں اپنے کان، آنکھ، زبان، دل اور منی کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“”حتیٰ کہ میں نے ان کلمات کو یاد کر لیا۔ (راویِ حدیث) سعد بن اوس نے کہا: منی سے مراد اس (شخص) کا پانی، یعنی نطفہ ہے۔ وکیع (ابن الجراح) نے اس حدیث کے لفظوں میں اس (ابو نعیم) کی مخالفت کی ہے۔ (اگلی روایت کے الفاظ دیکھنے سے اختلاف صریح طور پر کھل جاتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5446 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5486
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَلِسَانِي، وَقَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي"، يَعْنِي ذَكَرَهُ.
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللہم عافني من شر سمعي وبصري ولساني وقلبي وشر منيي» ”اے اللہ مجھے میرے کان، میری نگاہ، میری زبان، میرے دل اور منی کی برائی سے بچائے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5486]
حضرت شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیے جس سے میں فائدہ حاصل کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! مجھے میرے کانوں، آنکھوں، زبان، دل اور منی، یعنی شرم گاہ کے شر سے محفوظ رکھنا۔“” [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5446 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عضو تناسل کی برائی یہ ہے کہ اس کا استعمال حرام جگہ میں ہو، اس کی برائی سے پناہ مانگنے کی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکل رضی اللہ عنہ کو دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن