سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْخَسْفِ
باب: زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5531
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"، قَالَ جُبَيْرٌ: وَهُوَ الْخَسْفُ، قَالَ عُبَادَةُ: فَلَا أَدْرِي قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَوْلُ جُبَيْرٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» ”اے اللہ! میں تیری عظمت اور بڑائی کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے کی طرف سے کسی آفت میں پھنس جاؤں“۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر کہتے ہیں: اس سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے۔ عبادہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا جبیر کا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ”اے اللہ! میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جاؤں۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر نے کہا کہ نیچے سے اچانک ہلاک کر دیے جانے سے مراد ہے زمین میں دھنس جانا۔ عبادہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا جبیر کا (اپنا) قول ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 110 (5074)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3871)، (تحفة الأشراف: 6673)، مسند احمد (2/25)، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 181 (566) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5532
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ" , فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي" , يَعْنِي بِذَلِكَ الْخَسْفَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم» ”اے اللہ!“ پھر انہوں نے دعا کا ذکر کیا جس کے آخر میں یہ کہا: «أعوذ بك أن أغتال من تحتي» ”میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں نیچے کی طرف سے کسی مصیبت میں پھنس جاؤں“ اس سے آپ (زمین میں) دھنس جانا مراد لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5532]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ!“ پھر راوی نے دعا ذکر کی جس کے آخر میں یہ لفظ ہیں: ”میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جائے۔“ ان الفاظ سے آپ کا مقصد دھنسائے جانے سے پناہ طلب کرنا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن