سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : خليط البلح والزهو
باب: پکی اور گدر کھجور کے مخلوط مشروب کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5551
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَزَادَ مَرَّةً أُخْرَى وَالنَّقِيرِ، وَأَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ، وَالزَّهْوُ بِالتَّمْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن دوسری بار اتنا زیادہ کیا، لکڑی کے برتن سے، اور کھجور کو انگور کے ساتھ اور کچی کھجور کو پکی کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5550
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھی، روغنی اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بھگو کر پینے سے منع فرمایا ۱؎، اور اس بات سے کہ پکی اور کچی کھجور ملا کر نبیذ بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔمشربة 6 (1997)، (تحفة الأشراف: 5487)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 7 (3690)، مسند احمد (1/276، 233، -234، 341)، سنن الدارمی/الأشربة14(2157)، وفي ضمن قصة وفد عبد القیس أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان 40 (53)، العلم 25 (187)، المواقیت 2 (523)، الزکاة 1 (1398)، الخمس 2 (3095)، المناقب 5 (3510)، المغازي 69 (4369)، الأدب 98 (6176)، الآحاد 5 (7266)، التوحید 56 (7556)، صحیح مسلم/الإیمان 6 (17)، سنن الترمذی/الإیمان 5 (2611)، مسند احمد (1/228) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شراب کی حرمت سے پہلے ان برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی، جب اس کی حرمت نازل ہوئی تو ان کے اندر نبیذ بنانے سے منع کر دیا گیا کہ ایسا نہ ہو کہ سابقہ اثرات کی وجہ سے نبیذ میں نشہ آ جائے، اور جب یہ برتن خوب سوکھ گئے اور شراب کے اثرات زائل ہو گئے اور لوگوں کی شراب پینے کی عادت بھی جاتی رہی تب ان برتنوں کے اندر نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی، (دیکھئیے حدیث نمبر ۵۵۶۵، اور اس کے بعد کی حدیثیں)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5559
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ، وَعَنِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا , وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ هَجَرَ: أَنْ لَا تَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، سبز رنگ کی ٹھلیا، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے، ادھ کچی اور سوکھی کھجور کو ملانے سے اور انگور اور سوکھی کھجور کو ملانے سے منع فرمایا اور اہل ہجر (احساد) کو لکھا: انگور اور سوکھی کھجور کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الَٔشربة 5 (1990)، (تحفة الأشراف: 5478)، مسند احمد (1/33636) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5619
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5814)، مسند احمد (1/228، 229) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5623
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , وَشَقَّ عَلَيَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ , فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: صَدَقَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان سے «جر» کی نبیذ کے بابت پوچھا گیا تو بولے: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے، جو کچھ میں نے سنا وہ مجھ پر گراں گزرا۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک چیز کے بارے میں پوچھا گیا، وہ (ان کا جواب) مجھے بہت برا لگا۔ وہ بولے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: ان سے «جر» کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو ابن عباس نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا، میں نے کہا: «جر» کیا ہوتا ہے؟ وہ بولے: ہر وہ چیز جو مٹی سے بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5657) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5647
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهَا، يُقَالُ: لَهُ أَنَسٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7؟ , قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36؟ , قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي" أَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ".
انس (قیسی بصریٰ) کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ”جو کچھ تمہیں رسول دے، اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے، اس سے رک جاؤ“ (الحشر: ۷) میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللہ ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم» ”کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں اپنے معاملات میں کوئی حق نہیں رہتا“ (الاحزاب: ۳۶) میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے برتن، روغنی برتن، کدو کی تونبی اور لاکھ برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5363) (ضعیف) (اس کے رواة انس قیسی اور اسماء قیسیہ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، فيه مجهول ومجهولة وسليمان التيمي مدلس وعنعن. والحديث السابق (الأصل: 1997) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
حدیث نمبر: 5695
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ وَهُوَ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرٌ , قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ جَدَّةً لِي تَنْبِذُ نَبِيذًا فِي جَرٍّ أَشْرَبُهُ حُلْوًا , إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ , فَقَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ لَيْسَ بِالْخَزَايَا , وَلَا النَّادِمِينَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ , وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ , فَحَدِّثْنَا بِأَمْرٍ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ , دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا , قَالَ:" آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ , وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ , وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟" , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَإِقَامُ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ , وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ , وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ , وَالنَّقِيرِ , وَالْحَنْتَمِ , وَالْمُزَفَّتِ".
ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ“، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار و مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ایسی بات بتا دیجئیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہوں۔ اور ہمارے پیچھے جو لوگ (گھروں پر) رہ گئے ہیں، انہیں اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو؟ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ وہ لوگ بولے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، اور غنیمت کے مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنا، اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں: کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، لاکھی اور روغنی برتن میں تیار کی گئی نبیذ سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5034 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح