سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب : توبة شارب الخمر
باب: شرابی کی توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 5674
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی پھر توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5674]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دنیا میں شراب پیے گا اور اس سے توبہ نہیں کرے گا، وہ آخرت میں جنتی شراب سے محروم رہے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 1 (3373)، (تحفة الأشراف: 8359)، مسند احمد (2/19، 22، 28) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگرچہ وہ جنت میں داخل ہو جائے، کیونکہ اس نے جنت کا اپنا حق لینے میں دنیا میں عجلت سے کام لیا، یہ ایسے ہی جیسے ریشم کے بارے میں مسند طیالسی میں ایک حدیث ہے (نمبر ۲۲۱۷) کہ ”جو دینا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا گرچہ اس میں داخل ہو جائے، دیگر اہل جنت تو پہنیں گے مگر وہ نہیں پہن سکے گا۔“ (ابن حبان نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۷/۲۹۷)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5676
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسے ہمیشہ پیتا رہا، اور اس سے توبہ نہیں کی تو اسے آخرت کی (پاکیزہ) شراب نہ ملے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5676]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دنیا میں شراب پیتا اور مرتے دم تک اس کا عادی رہا، اس سے توبہ نہیں کی، وہ آخرت میں جنتی شراب نہیں پی سکے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5585 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5677
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسے ہمیشہ پیتا رہا، اسے آخرت کی (پاکیزہ) شراب نہ ملے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5677]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دنیا میں شراب پیے اور موت تک پیتا رہے (توبہ نہ کرے) وہ آخرت میں جنتی شراب نہیں پیے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5585 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن