سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : قراءة بسم الله الرحمن الرحيم
باب: (نماز میں) «بسم اللہ الرحمن الرحیم» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 905
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال: بَيْنَمَا ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَزَلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ {1} فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ {2} إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ {3} سورة الكوثر آية 1-3، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ:" فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ تَرِدُهُ عَلَيَّ أُمَّتِي فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ: إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے «بسم اللہ الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» ”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 905]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے تھے کہ آپ کو اونگھ سی آگئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔ ہم نے آپ سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ہنسنے کا سبب کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] ”اللہ رحمن و رحیم کے نام سے (شروع)۔ بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، لہٰذا اپنے رب تعالیٰ کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ یقیناً آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا۔““ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو، کوثر کیا ہے؟“ ہم نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ میری امت اس پر میرے پاس آئے گی۔ ایک آدمی کو ان میں سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: ”اے میرے رب! یہ شخص تو میری امت سے ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”آپ نہیں جانتے، آپ کے بعد اس نے کیا نیا کام کیا۔““ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 14 (400)، الفضائل 9 (2304) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 124 (784) مختصراً، والسنة 26 (4747) مختصراً، (تحفة الأشراف: 1575)، مسند احمد 3/102، 281 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1956
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ:" إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ".
عقبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے باہر) نکلے، اور غزوہ احد کے شہیدوں پر نماز (جنازہ) پڑھی ۱؎ جیسے میت کی نماز جنازہ پڑھتے تھے، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا: ”میں (قیامت میں) تمہارا پیش رو ہوں، اور تم پر گواہ (بھی) ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 1956]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن (اپنی زندگی کے آخری دنوں میں) احد کی طرف گئے اور احد کے شہداء کے لیے اس طرح (آہ و زاری سے) دعائیں کیں جس طرح میت کے لیے کرتے تھے، پھر واپس آکر منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”میں تمہارا پیش رو ہوں (تمہارا میرِ سامان ہوں) اور میں تمہارے حق میں (ایمان و نصرت کی) گواہی دوں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 72 (1344)، والمناقب 25 (3596)، والمغازي 17 (4042)، 27 (4085)، والرقاق 7 (6426)، 53 (6590)، صحیح مسلم/الفضائل 9 (2296)، سنن ابی داود/الجنائز 75 (3223)، (تحفة الأشراف: 9956)، مسند احمد 4/149، 153، 154 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نماز آپ نے جنگ احد کے آٹھ سال بعد آخری عمر میں پڑھی تھی، اور یہ شہداء احد ہی کے ساتھ خاص تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه