سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : جهر الإمام بآمين
باب: امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 929
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 929]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «آمِينَ» ”آمین“ کہے تو تم «آمِينَ» ”آمین“ کہو۔ جس کی «آمِينَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِينَ» ”آمین“ سے مل جائے، اس کے سابقہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 111 (780)، صحیح مسلم/الصلاة 18 (410)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (936)، سنن الترمذی/الصلاة 71 (250)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (45)، (تحفة الأشراف: 13230) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 926
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قاری (امام) آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے ۱؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 926]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پڑھنے والا (امام) «آمِيْن» کہے تو تم بھی «آمِيْن» کہو کیونکہ فرشتے بھی «آمِيْن» کہتے ہیں، چنانچہ جس کی «آمِيْن» فرشتوں کی «آمِيْن» سے مل گئی، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15266)، مسند احمد 2/238، 449، 459، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1281، 1282) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مؤلف نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے، کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا، اور جب انہیں اس کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 927
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قاری (امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 927]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قراءت کرنے والا (امام) «آمِينَ» ”آمین“ کہے تو تم «آمِينَ» ”آمین“ کہو کیونکہ فرشتے بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہتے ہیں۔ جس کی «آمِينَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِينَ» ”آمین“ سے مل جائے، اس کے سابقہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 63 (6402)، سنن ابن ماجہ/إقامة 14 (851)، مسند احمد 2/238، (تحفة الأشراف: 13136) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 928
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال: حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 928]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِينَ» ”آمین“ کہو کیونکہ فرشتے بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہتے ہیں اور امام بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہتا ہے، چنانچہ جس کی «آمِينَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِينَ» ”آمین“ سے مل جائے، اس کے سابقہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 14 (852) مختصراً، مسند احمد 2/233، 270، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1282)، (تحفة الأشراف: 13287) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 930
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 930]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِيْن» کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے ساتھ مل جائے، اس کے لیے اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 113 (782)، التفسیر 2 (4475)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (935)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (45)، مسند احمد 2/459، (تحفة الأشراف: 12576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ وَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 931]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی «آمِينَ» ”آمین“ کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں «آمِينَ» ”آمین“ کہتے ہیں، پھر ان میں سے ایک «آمِينَ» ”آمین“ دوسری «آمِينَ» ”آمین“ کے ساتھ مل جائے تو ان کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 111 (781)، (تحفة الأشراف: 13826)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (46)، مسند احمد 2/459 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1064
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 1064]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو کیونکہ جس آدمی کا یہ قول فرشتوں کے قول کے ساتھ مل گیا، اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 125 (796)، بدء الخلق 7 (3228)، صحیح مسلم/الصلاة 18 (409)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (848)، سنن الترمذی/الصلاة 83 (267)، (تحفة الأشراف: 12568)، موطا امام مالک/النداء للصلاة 11 (47)، مسند احمد 2/ 387، 417، 459، 467 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه