سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب ما جاء في القراءة على الجنازة بفاتحة الكتاب
باب: نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ هُوَ: أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: مِنَ السُّنَّةِ الْقِرَاءَةُ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے میں سورۃ فاتحہ پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے،
۲- ابراہیم بن عثمان ہی ابوشیبہ واسطی ہیں اور وہ منکر الحدیث ہیں۔ صحیح چیز جو ابن عباس سے مروی ہے کہ ـ جنازے کی نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت میں سے ہے،
۳- اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1026]
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے،
۲- ابراہیم بن عثمان ہی ابوشیبہ واسطی ہیں اور وہ منکر الحدیث ہیں۔ صحیح چیز جو ابن عباس سے مروی ہے کہ ـ جنازے کی نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت میں سے ہے،
۳- اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 22 (1495)، انظر الحدیث الآتي (تحفة الأشراف: 6468) (صحیح) (اگلی اثر کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”ابراہیم بن عثمان“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1495)
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جداً / جه:1495
إبراھيم بن عثمان : متروك الحديث (تق:215) وللحديث شواھد كثيرة ، والحديث الآتي (الأصل:1027) يغني عنه
إبراھيم بن عثمان : متروك الحديث (تق:215) وللحديث شواھد كثيرة ، والحديث الآتي (الأصل:1027) يغني عنه
حدیث نمبر: 1
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ. ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ". قَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ:" إِلَّا بِطُهُورٍ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ , وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَنَسٍ , وَأَبُو الْمَلِيحِ بْنُ أُسَامَةَ اسْمُهُ عَامِرٌ، وَيُقَالُ: زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز بغیر وضو کے قبول نہیں کی جاتی ۲؎ اور نہ صدقہ حرام مال سے قبول کیا جاتا ہے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے ۳؎۔
۲- اس باب میں ابوالملیح کے والد اسامہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1]
۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے ۳؎۔
۲- اس باب میں ابوالملیح کے والد اسامہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 2 (224) سنن ابن ماجہ/الطہارة 2 (272) (تحفة الأشراف: 7457) مسند احمد (202، 39، 51، 57، 73) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طہارت کا لفظ عام ہے وضو اور غسل دونوں کو شامل ہے، یعنی نماز کے لیے حدث اکبر اور اصغر دونوں سے پاکی ضروری ہے، نیز یہ بھی واضح ہے کہ دونوں حدثوں سے پاکی (معنوی پاکی) کے ساتھ ساتھ حسّی پاکی (مکان، بدن اور کپڑا کی پاکی) بھی ضروری ہے، نیز دیگر شرائط نماز بھی، جیسے رو بقبلہ ہونا، یہ نہیں کہ صرف حدث اصغر و اکبر سے پاکی کے بعد مذکورہ شرائط کے پورے کئے بغیر صلاۃ ہو جائے گی۔ ۲؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کی صحت کے لیے وضو شرط ہے خواہ نفل ہو یا فرض، یا نماز جنازہ۔ ۳؎: ”یہ حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور حسن ہے“ اس عبارت سے حدیث کی صحت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اس باب میں یہ روایت سب سے بہتر ہے خواہ اس میں ضعف ہی کیوں نہ ہو، یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے اس باب میں سب سے صحیح حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہے جو صحیحین میں ہے (بخاری: الوضوء باب ۲، (۱۳۵) و مسلم: الطہارۃ ۲ (۲۷۵) اور مولف کے یہاں بھی آ رہی ہے (رقم ۷۶) نیز یہ بھی واضح رہے کہ امام ترمذی کے اس قول ”اس باب میں فلاں فلاں سے بھی حدیث آئی ہے“ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس باب میں اس صحابی سے جن الفاظ کے ساتھ روایت ہے ٹھیک انہی الفاظ کے ساتھ ان صحابہ سے بھی روایت ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس مضمون و معنی کی حدیث فی الجملہ ان صحابہ سے بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (272)
قال الشيخ زبير على زئي:بخاری و مسلم
حدیث نمبر: 275
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، وَأَنَسٍ، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الِاعْتِدَالَ فِي السُّجُودِ وَيَكْرَهُونَ الِافْتِرَاشَ كَافْتِرَاشِ السَّبُعِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ۱؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، انس، براء، ابوحمید اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 275]
۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، انس، براء، ابوحمید اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 21 (891)، (تحفة الأشراف: 2311)، مسند احمد (3/305، 315، 389) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہیئت درمیانی رکھے اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلوؤں سے جدا ہوں اور پیٹ بھی رانوں سے جدا ہو۔ گویا زمین اور بدن کے اوپر والے آدھے حصے کے درمیان فاصلہ نظر آئے۔ ۲؎: ”کتے کی طرح“ سے مراد ہے کہ وہ دونوں کہنیاں زمین پر بچھا کر بیٹھتا ہے، اس طرح تم سجدہ میں نہ کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (891)