سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء في الكفارة قبل الحنث
باب: قسم توڑنے سے پہلے قسم کا کفارہ ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1530
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ تُجْزِئُ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُكَفِّرُ إِلَّا بَعْدَ الْحِنْثِ , قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: إِنْ كَفَّرَ بَعْدَ الْحِنْثِ أَحَبُّ إِلَيَّ , وَإِنْ كَفَّرَ قَبْلَ الْحِنْثِ أَجْزَأَهُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی امر پر قسم کھائے، اور اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے (جسے وہ بہتر سمجھتا ہے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے،
۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا صحیح ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: «حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد ہی کفارہ ادا کیا جائے گا،
۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر کوئی «حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد کفارہ ادا کرے تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے اور اگر «حانث» ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے تو بھی درست ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1530]
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے،
۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا صحیح ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: «حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد ہی کفارہ ادا کیا جائے گا،
۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر کوئی «حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد کفارہ ادا کرے تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے اور اگر «حانث» ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے تو بھی درست ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 3 (650/12)، (تحفة الأشراف: 2738)، و مسند احمد (2/361) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث جو اس سے پہلے مذکور ہے اور باب کی اس حدیث کے الفاظ مجموعی طور پر قسم توڑنے کی صورت میں کفارہ کی ادائیگی کو پہلے بھی اسی طرح جائز بتاتے ہیں جس طرح اس کے بعد جائز بتاتے ہیں، جمہور کا یہی مسلک ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قسم کا کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا کرنا کسی حالت میں صحیح نہیں ہے تو ابوداؤد کی حدیث «فكفر عن يمينك ثم ائت الذي هو خير» ان کے خلاف حجت ہے اس میں کفارہ کے بعد «ثم» کا لفظ ترتیب کا مقتضی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2084) ، الروض النضير (1029)
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ يُونُسَ هُوَ: ابْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا , وَإِنْ أَتَتْكَ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا , وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " , وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَجَابِرٍ , وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَنَسٍ , وَعَائِشَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأُمِّ سَلَمَةَ , وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! منصب امارت کا مطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اسی کے سپرد کر دیئے جاؤ گے ۱؎، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد و توفیق تمہارے شامل ہو گی، اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھو تو جسے تم بہتر سمجھتے ہو اسے ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، جابر، عدی بن حاتم، ابو الدرداء، انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1529]
۱- عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، جابر، عدی بن حاتم، ابو الدرداء، انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان والنذور 1 (6622)، والکفارات 10 (6722)، والأحکام 5 (4146)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن ابی داود/ الخراج 2 (2 (2929)، سنن النسائی/آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، و مسند احمد (5/66) وسنن الدارمی/النذور 9 (2391) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید تمہیں حاصل نہیں ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (7 / 166 - 8 / 228 / 2601) ، صحيح أبي داود (2601)