سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في إكثار ماء المرقة
باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ "، وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ.
عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں (پکاتے وقت) شوربا (سالن) زیادہ کر لے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» (یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے،
۳- یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1832]
۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» (یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے،
۳- یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8974) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف، اور ان کے والد فضاء بن خالد بصری مجہول راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (2341) // ضعيف الجامع الصغير (371) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1832) إسناده ضعيف
محمد بن فضاء : ضعيف وأبوه : مجھول (د 3449)
محمد بن فضاء : ضعيف وأبوه : مجھول (د 3449)
حدیث نمبر: 1834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ۱؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1834]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 32 (3411)، و 46 (3433)، وفضائل الصحابة 30 (3769)، والأطعمة 25 (5418)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 12 (2431) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چنانچہ مردوں میں سے انبیاء، رسل، علما، خلفاء، اور اولیاء ہوئے۔ ۲؎: ثرید: اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے ساتھ شوربے میں روٹی ملی ہوئی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3280)