Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب لا يتوارث أهل ملتين
باب: دو مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2938) (صحیح) (سند میں محمد بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: دو مختلف ملت و مذہب سے مراد بعض لوگوں نے کفر و اسلام کو لیا ہے، اور بعض نے اسے عام رکھا ہے، ایسی صورت میں عیسائی یہودی کا اور یہودی عیسائی کا وارث نہیں ہو گا، پہلا ہی قول راجح ہے کیونکہ کفر کی ساری ملتیں «ملة واحدة» ایک ہی ملت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2731)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 48 (4283)، والفرائض 26 (6764)، صحیح مسلم/الفرائض 1 (1614)، سنن ابی داود/ الفرائض 10 (2909)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2730) (تحفة الأشراف: 113) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی مرنے والے کافر رشتہ دار کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کافر اپنے مسلمان رشتہ دار کا وارث ہو گا، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2729)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں