سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. باب ما جاء أن حذف السلام سنة
باب: سلام زیادہ نہ کھینچ کر کہنا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّهُ مَدًّا. قال أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ، وَهِقْلٌ يُقَالُ كَانَ كَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: «حذف سلام» سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں،
۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے (یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 297]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں،
۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے (یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 192 (1004)، (تحفة الأشراف: 15233)، مسند احمد (2/532) (ضعیف) (سند میں قرة کی ثقاہت میں کلام ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ضعيف أبي داود (179) // عندنا برقم (213 / 1004) بزيادة: يرفعه للرسول صلى الله عليه وسلم //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 1004
حدیث نمبر: 3043
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: " قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ عَلَيْنَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنِّي أَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُنْزِلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
طارق بن شہاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اگر یہ آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا“ (المائدہ: ۳)، ہمارے اوپر (ہماری توریت میں) نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی تھی، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے کہا: مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔ یہ آیت یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 3043]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 33 (45)، والمغازي 77 (4407)، وتفسیر المائدة 2 (4606)، والإعتصام 1 (7268)، صحیح مسلم/التفسیر (3017)، سنن النسائی/الحج 194 (3006)، والإیمان 18 (5015) (تحفة الأشراف: 10468)، و مسند احمد (1/28، 39) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے اچھا اور خوشی کا دن اور کون سا ہو گا، یہ دونوں دن تو ہمارے لیے عید اور خوشی کے دن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح