سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب ومن سورة الصافات
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3229
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ سورة الصافات آية 147 قَالَ: " عِشْرُونَ أَلْفًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ”ہم نے انہیں (یعنی یونس کو) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا“ (الصافات: ۷۷)، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ایک لاکھ بیس ہزار تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3229]
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3229) إسناده ضعيف
رجل: مجھول
رجل: مجھول
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2108]
ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2938) (صحیح) (سند میں محمد بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: دو مختلف ملت و مذہب سے مراد بعض لوگوں نے کفر و اسلام کو لیا ہے، اور بعض نے اسے عام رکھا ہے، ایسی صورت میں عیسائی یہودی کا اور یہودی عیسائی کا وارث نہیں ہو گا، پہلا ہی قول راجح ہے کیونکہ کفر کی ساری ملتیں «ملة واحدة» ایک ہی ملت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2731)