سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. باب ما جاء في أى المساجد أفضل
باب: کون سی مسجد سب سے افضل ہے؟
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عبد الله الأغر، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، إِنَّمَا ذَكَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُوَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ اسْمُهُ: سَلْمَانُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ , وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , وَأَبِي ذَرٍّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- کئی سندوں سے مروی ہے،
۳- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 325]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- کئی سندوں سے مروی ہے،
۳- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة فی مسجد مکة والمدینة 1 (1190)، صحیح مسلم/الحج 94 (1394)، سنن النسائی/المساجد 7 (695)، والحج 124 (2902)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 195 (تحفة الأشراف: 13464)، وکذا (13551 و4960)، موطا امام مالک/القبلة 5 (9)، مسند احمد (2/239، 241، 256، 277، 278، 386، 466، 468، 473، 484، 485، 499)، سنن الدارمی/الصلاة 131 (1458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1404)
حدیث نمبر: 3916
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 14810) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی بنسبت ایک لاگھ گنا ہے، مسجد نبوی میں نماز کا ثواب ایک ہزار گنا ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)