سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب في مناقب عمر بن الخطاب رضى الله عنه
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3688
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ فَقَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چنانچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ عمر بن خطاب ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3688]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 590)، و مسند احمد (3/107، 179) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر رضی الله عنہ کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری دیدی گئی اور کسی مرتد کو جنت کی خوشخبری نہیں دی جا سکتی، (برا ہو آپ سے بغض و نفرت رکھنے والوں کا)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1405 - 1423)
حدیث نمبر: 1624
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ "، هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ.
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے“۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 4904) (حسن صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے، ورنہ ”ولید“ اور ان کے شیخ میں قدرے کلام ہے، دیکھیے الصحیحة رقم 563)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، الصحيحة (563)