🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب في مناقب عمر بن الخطاب رضى الله عنه
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3688
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ فَقَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چنانچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ عمر بن خطاب ہیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 590)، و مسند احمد (3/107، 179) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر رضی الله عنہ کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری دیدی گئی اور کسی مرتد کو جنت کی خوشخبری نہیں دی جا سکتی، (برا ہو آپ سے بغض و نفرت رکھنے والوں کا)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1405 - 1423)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3688
دخلت الجنة فإذا أنا بقصر من ذهب فقلت لمن هذا القصر قالوا لشاب من قريش فظننت أني أنا هو فقلت ومن هو فقالوا عمر بن الخطاب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3688 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3688
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر رضی اللہ عنہ کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری دیدی گئی اور کسی مرتد کو جنت کی خوشخبری نہیں دی جا سکتی،
(برا ہو آپ سے بغض ونفرت رکھنے والوں کا)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3688]