🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
163. باب ما جاء في الرجل يتطوع جالسا
باب: بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 373
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ". وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَفْصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ جَالِسًا، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ "، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ ". قَالَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق: وَالْعَمَلُ عَلَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ كَأَنَّهُمَا رَأَيَا كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا مَعْمُولًا بِهِمَا.
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہو جاتی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہے،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ ہی کر کرتے۔
۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دونوں حدیثیں صحیح اور معمول بہ ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (733)، سنن النسائی/قیام اللیل 19 (1659)، (تحفة الأشراف: 15812)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (21)، مسند احمد (6/285) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر امتیوں کی طرح آدھا نہیں ہے، یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صفة الصلاة // 60 //

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرأت بھی بیٹھ ہی کر کرتے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 20 (1118، 1119)، والتہجد 16 (1148)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابی داود/ الصلاة 179 (953، 954)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1649)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1227)، (تحفة الأشراف: 17709)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (23)، مسند احمد (6/17846، 231) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں