🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
211. باب ما جاء أن صلاة الليل مثنى مثنى
باب: رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري , وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاقَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 84 (472، 473)، والوتر 1 (990، 991، 993)، والتہجد 10 (1137)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/ الصلاة 314 (1326)، سنن النسائی/قیام اللیل 26 (1668-1675)، و35 (1693)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1320)، (تحفة الأشراف: 8288)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 3 (13)، مسند احمد (2/5، 9، 10، 49، 54، 66) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رات کی نماز کا دو رکعت ہونا اس کے منافی نہیں کہ دن کی نفل نماز بھی دو دو رکعت ہو، جبکہ ایک حدیث میں رات اور دن کی نماز دو دو رکعت بھی آیا ہے، دراصل سوال کے جواب میں کہ رات کی نماز کتنی کتنی پڑھی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ خود رات میں کبھی پانچ رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے، اصل بات یہ ہے کہ نفل نماز عام طور سے دو دو رکعت پڑھنی افضل ہے خاص طور پر رات کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1319 و 1320)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 461
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: أُطِيلُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، وَكَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَالْأَذَانُ فِي أُذُنِهِ يَعْنِي يُخَفِّفُ "قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ , وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي أَيُّوبَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ رَأَوْا أَنْ يَفْصِلَ الرَّجُلُ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ، وَالثَّالِثَةِ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، وَبِهِ يَقُولُ: مَالِكٌ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق.
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا: کیا میں فجر کی دو رکعت سنت لمبی پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور وتر ایک رکعت، اور فجر کی دو رکعت سنت پڑھتے (گویا کہ) تکبیر آپ کے کانوں میں ہو رہی ہوتی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عائشہ، جابر، فضل بن عباس، ابوایوب انصاری اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ و تابعین میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ آدمی دو رکعتوں اور تیسری رکعت کے درمیان (سلام کے ذریعہ) فصل کرے، ایک رکعت سے وتر کرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 2 (995)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (157/749)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 101 (1144)، (مختصرا) (تحفة الأشراف: 6652)، مسند احمد (2/31، 49، 78، 88، 126) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا تکبیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کانوں میں ہو رہی ہوتی کا مطلب ہے کہ فجر کی دونوں سنتیں اتنی سرعت سے ادا فرماتے گویا تکبیر کی آواز آپ کے کانوں میں آ رہی ہے اور آپ تکبیر تحریمہ فوت ہو جانے کے اندیشے سے اسے جلدی جلدی پڑھ رہے ہوں۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں وارد احادیث میں یہ صورت بھی ہے، اور بغیر سلام کے تین پڑھنے کی صورت بھی مروی ہے، اس معاملہ میں امت پر وسعت کی گئی ہے، اس کو تنگی میں محصور کر دینا مناسب نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس ضمن میں زیادہ عمل، وتر ایک رکعت پڑھنے پر تھا اس کے لیے احادیث و آثار تین، پانچ اور ان سے زیادہ وتروں کی نسبت کثرت سے مروی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1144 و 1318)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: اخْتَلَفَ أَصْحَابُ شُعْبَةَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى " وَرَوَى الثِّقَاتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ صَلَاةَ النَّهَارِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَبِالنَّهَارِ أَرْبَعًا " وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَرَأَوْا صَلَاةَ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ أَرْبَعًا مِثْلَ الْأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَغَيْرِهَا مِنْ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث میں شعبہ کے تلامذہ میں اختلاف ہے، بعض نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے اور بعض نے موقوفاً،
۲- عبداللہ عمری بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ صحیح وہی ہے جو ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے،
۳- ثقات نے عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے دن کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎،
۴- عبیداللہ سے مروی ہے، انہوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور دن کو چار چار رکعت،
۵- اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں رات اور دن دونوں کی نماز دو دو رکعت ہے، یہی شافعی اور احمد کا قول ہے، اور بعض کہتے ہیں: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، ان کی رائے میں دن کی نفل نماز چار رکعت ہے مثلاً ظہر وغیرہ سے پہلے کی چار نفل رکعتیں، سفیان ثوری، ابن مبارک، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 302 (1295)، سنن النسائی/قیام اللیل 26 (1678)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 172 (1322)، (تحفة الأشراف: 7349)، مسند احمد (2/26، 51)، سنن الدارمی/الصلاة 155 (1500) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علامہ البانی نے ابن عمر رضی الله عنہما کی اس حدیث کی تصحیح بڑے بڑے ائمہ سے نقل کی ہے (دیکھئیے صحیح ابی داود رقم ۱۱۷۲) آپ کے عمل سے دونوں طرح ثابت ہے، کبھی دو دو کر کے پڑھتے اور کبھی چار ایک سلام سے، لیکن اس قولی صحیح حدیث کی بنا پر دن کی بھی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے، ظاہر بات ہے کہ دو سلام میں اوراد و اذکار زیادہ ہیں، تو افضل کیوں نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1322)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں