🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب ومن الدليل على أن الخمس للإمام وأنه يعطي بعض قرابته دون بعض ما قسم النبى صلى الله عليه وسلم لبني المطلب وبني هاشم من خمس خيبر:
باب: اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض (مستحق) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے اور جس کو چاہے نہ دے، دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو دیا (اور دوسرے قریش کو نہ دیا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ، قَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ وَزَادَ، قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَبْدُ شَمْسٍ وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ وَكَانَ نَوْفَلٌ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابن مسیب نے بیان کیا اور ان سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا، حالانکہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور (اس روایت میں) یہ زیادتی کی کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا، اور ابن اسحاق (صاحب مغازی) نے کہا ہے کہ عبدشمس، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے (ان کی ماں دوسری تھیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3140]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو مطلب کو تو مال دیا ہے لیکن ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ ہم اور وہ آپ سے ایک ہی درجے کی قرابت رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو مطلب اور بنو ہاشم تو ایک ہی چیز ہیں۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو شمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عبد شمس، ہاشم اور مطلب ایک ہی ماں سے تھے، ان کی والدہ کا نام عاتکہ بنت مرہ تھا اور نوفل صرف باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے (ان کی ماں دوسری تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3140]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب نے اور ان سے جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو مطلب کو تو آپ نے عطا فرمایا اور ہمیں (بنی امیہ کو) نظر انداز کر دیا حالانکہ آپ کے لیے ہم اور وہ ایک ہی درجے کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ صحیح ہے) مگر بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3502]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو مطلب کو مال دیا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ ہم اور وہ آپ کے لیے (رشتہ داری میں) برابر ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3503
وَقَالَ: اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: ذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ إِلَى عَائِشَةَ وَكَانَتْ أَرَقَّ شَيْءٍ عَلَيْهِمْ لِقَرَابَتِهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد نے بیان کیا اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بنی زہرہ کے چند لوگوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی زہرہ کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتی تھیں کیونکہ ان لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3503]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (میرے بھائی) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بنو زہرہ کے لوگوں کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہا ان لوگوں پر بڑی مہربانی کرتی تھیں کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3503]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4229
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو (خمس میں سے) کچھ نہیں دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4229]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کی: آپ نے خمسِ خیبر سے بنو مطلب کو حصہ دیا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا، حالانکہ ہم اور وہ آپ سے قرابت میں برابر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو (خمسِ خیبر سے) کچھ نہیں دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں