🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب: {وكان الإنسان أكثر شيء جدلا} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور انسان سب چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4724
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ، قَالَ:" أَلَا تُصَلِّيَانِ؟". رَجْمًا بِالْغَيْبِ: لَمْ يَسْتَبِنْ، فُرُطًا: يُقَالُ نَدَمًا، سُرَادِقُهَا: مِثْلُ السُّرَادِقِ وَالْحُجْرَةِ الَّتِي تُطِيفُ بِالْفَسَاطِيطِ يُحَاوِرُهُ مِنَ الْمُحَاوَرَةِ، لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي: أَيْ لَكِنْ أَنَا هُوَ اللَّهُ رَبِّي، ثُمَّ حَذَفَ الْأَلِفَ وَأَدْغَمَ إِحْدَى النُّونَيْنِ فِي الْأُخْرَى، وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا، يَقُولُ: بَيْنَهُمَا، زَلَقًا: لَا يَثْبُتُ فِيهِ قَدَمٌ، هُنَالِكَ الْوِلَايَةُ: مَصْدَرُ الْوَلِيِّ، عُقُبًا: عَاقِبَةً، وَعُقْبَى وَعُقْبَةً وَاحِدٌ وَهِيَ الْآخِرَةُ قِبَلًا، وَقُبُلًا وَقَبَلًا اسْتِئْنَافًا، لِيُدْحِضُوا: لِيُزِيلُوا الدَّحْضُ الزَّلَقُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں علی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے اور فرمایا۔ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے (آخر حدیث تک)۔ «رجما بالغيب‏» یعنی سنی سنائی اور ان کو خود کچھ علم نہیں۔ «فرطا‏» ندامت، شرمندگی۔ «سرادقها‏» یعنی قناتوں کی طرح سب طرف سے ان کو آگ گھیر لے گی جیسے کوٹھری کو سب طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ «يحاوره‏»، «محاورة» سے نکلا ہے یعنی گفتگو کرنا، تکرار کرنا۔ «لكنا هو الله ربي‏» اصل میں «لكن أنا هو الله ربي» تھا «أنا» کا ہمزہ حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کر دیا «لكنا» ہو گیا۔ «خلالهما نهرا» یعنی «بينهما» ان کے بیچ میں۔ «زلقا» چکنا، صاف جس پر پاؤں پھسلے (جمے نہیں)۔ «هنالك الولاية‏»، «ولايت‏»، «ولي» کا مصدر ہے۔ «عقبا‏»، «عاقبت» اسی طرح «عقبى» اور «عقبة» سب کا ایک ہی معنی ہے یعنی آخرت۔ «قبلا» اور «قبلا» اور «قبلا» (تینوں طرح پڑھا ہے) یعنی سامنے آنا۔ «ليدحضوا‏»، «دحض» سے نکلا ہے یعنی پھسلانا (مطلب یہ ہے کہ حق بات کو ناحق کریں)۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4724]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: تم لوگ نماز (تہجد) کیوں نہیں پڑھتے؟ ﴿رَجْمًا بِالْغَيْبِ﴾ [سورة الكهف: 22] کے معنی ہیں: خود انہیں کچھ معلوم نہیں، یعنی بغیر علم کے رائے زنی کرنا۔ ﴿فُرُطًا﴾ [سورة الكهف: 28] کے معنی ہیں: ندامت اور شرمندگی۔ ﴿سُرَادِقُهَا﴾ [سورة الكهف: 29] کا مطلب ہے کہ قناتوں کی طرح ہر طرف سے انہیں آگ گھیر لے گی جس طرح کوٹھڑی اور حجرے کو ہر طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ ﴿يُحَاوِرُهُ﴾ [سورة الكهف: 34] ، «مُحَاوَرَة» سے نکلا ہے، یعنی گفتگو کرنا۔ ﴿لَٰكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي﴾ [سورة الكهف: 38] دراصل یہ تھا: «لَكِنْ أَنَا هُوَ اللهُ رَبِّي»، پھر «أَنَا» کا الف حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کر دیا گیا، لہٰذا یہ «لَكِنَّا» ہو گیا۔ ﴿وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا﴾ [سورة الكهف: 33] کے معنی ہیں: ہم نے ان دونوں (باغوں) کے درمیان ایک نہر جاری کر دی۔ ﴿زَلَقًا﴾ [سورة الكهف: 40] کے معنی ہیں: ایسا چکنا چپڑا (میدان) جس میں پاؤں پھسل جائیں، جم نہ سکیں۔ ﴿هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ﴾ [سورة الكهف: 44] میں «الْوِلَايَة» «وَلِي» کا مصدر ہے۔ ﴿عُقْبًا﴾ [سورة الكهف: 44] کے معنی ہیں: عاقبت، یعنی انجام۔ «عَاقِبَة»، «عُقْبَى» اور «عُقْبَة» سب کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی آخرت۔ «قُبُلًا»، «قَبَلًا» اور «قِبَلًا» اس لفظ کو تین طرح پڑھا گیا ہے، اس کے معنی ہیں: سامنے سے آنا۔ ﴿لِيُدْحِضُوا﴾ [سورة الكهف: 56] ، «دَحْض» سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہیں: پھسلا دینا اور زائل کر دینا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4724]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1127
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام لَيْلَةً فَقَالَ: أَلَا تُصَلِّيَانِ؟ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ , وَهُوَ يَقُولُ: وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے زین العابدین علی بن حسین نے خبر دی، اور انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر (سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 1127]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم دونوں نماز (تہجد) کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے۔ جب میں نے یہ بات کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو گئے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ واپس جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 1127]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7347
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلَا تُصَلُّونَ؟، فَقَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهُ ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعَهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ، فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: يُقَالُ مَا أَتَاكَ لَيْلًا فَهُوَ طَارِقٌ، وَيُقَالُ الطَّارِقُ: النَّجْمُ، وَالثَّاقِبُ: الْمُضِيءُ، يُقَالُ: أَثْقِبْ نَارَكَ لِلْمُوقِدِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق ابن ابی راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے اور فاطمہ بنت رسول اللہ علیم السلام والصلٰوۃ کے گھر ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے تو ہم کو اٹھا دے گا۔ جوں ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ پیٹھ موڑ کر واپس جانے لگے اور کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے آپ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» اور انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے اگر کوئی تمہارے پاس رات میں آئے تو «طارق» کہلائے گا اور قرآن میں جو «والطارق» کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ستارہ ہے اور «ثاقب» بمعنی چمکتا ہوا۔ عرب لوگ آگ جلانے والے سے کہتے ہیں «ثقب نارك» یعنی آگ روشن کر۔ اس سے لفظ «ثاقب» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7347]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے پاس اور حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے تو ان سے فرمایا: تم (رات کو) نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہماری ارواح اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے ہم اٹھتے ہیں۔ جس وقت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور انہیں کچھ جواب نہ دیا۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت پھیر کر واپس جا رہے تھے اور اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: جو رات کے وقت تیرے پاس آئے وہ طارق ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طارق ستارہ ہے، اور ثاقب کے معنی ہیں: روشنی کرنے والا، آگ سلگانے والے کو کہا جاتا ہے: آگ روشن کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7465
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُمْ: أَلَا تُصَلُّونَ؟، قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِب فَخِذَهُ، وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے علی بن حسین نے بیان کیا، حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی اور نہیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات میں تشریف لائے اور ان سے کہا کیا تم لوگ نماز تہجد نہیں پڑھتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ میں نے آپ کو واپس جاتے وقت یہ کہتے سنا۔ آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ فرما رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» کہ انسان بڑا ہی بحث کرنے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7465]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: تم لوگ (تہجد کی) نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وہ جب ہمیں اٹھانا چاہے گا، اٹھا دے گا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس جاتے ہوئے کہتے سنا جبکہ آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ فرما رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] انسان ہمیشہ سے تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7465]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں