صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب: {عتل بعد ذلك زنيم} :
باب: آیت کی تفسیر یعنی وہ کافر ”سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدذات بھی ہیں“۔
حدیث نمبر: 4918
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عبد بن خالد سے بیان کیا، کہا کہ میں نے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں تمہیں بہشتی آدمی کے متعلق نہ بتا دوں۔ وہ دیکھنے میں کمزور ناتواں ہوتا ہے (لیکن اللہ کے یہاں اس کا مرتبہ یہ ہے کہ) اگر کسی بات پر اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے ضرور پوری کر دیتا ہے اور کیا میں تمہیں دوزخ والوں کے متعلق نہ بتا دوں ہر بدخو، بھاری جسم والا اور تکبر کرنے والا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4918]
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ وہ دیکھنے میں کمزور و ناتواں لیکن اگر کسی بات پر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا کر دیتا ہے۔ اور کیا میں تمہیں اہل جہنم کی خبر نہ دوں؟ وہ سخت مزاج، بدخو اور تکبر کرنے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6072
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:" إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ".
اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6072]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ) مدینہ طیبہ کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6072]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: مَا الْإِسْتَبْرَقُ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" فَمَضَى مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ، قَالَ:" إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا" فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ «إستبرق» کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ دیبا سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ (بیچ کر) مال حاصل کرو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں (ریشم کے) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6081]
حضرت یحیٰی بن ابی اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حضرت سالم بن عبداللہ نے پوچھا: ” «اِسْتَبْرَقٌ» کیا ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: ”دیبا سے بنا ہوا موٹا اور خوبصورت کپڑا۔“ پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو «اِسْتَبْرَقٌ» کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ اسے خرید لیں اور جب لوگوں کے وفد آپ کے پاس آئیں تو اسے زیب تن کر لیا کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔“ اس کے بعد کچھ مدت گزری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک ریشمی جوڑا بھیجا، چنانچہ وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ آپ اس کے متعلق جو ارشاد فرمانا تھا وہ فرما چکے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کے ذریعے سے مال حاصل کرو۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس حدیث کی وجہ سے کپڑوں پر بیل بوٹے اور نقش و نگار پسند کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6081]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ، مُتَضَعَّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، وَأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ، عُتُلٍّ، مُسْتَكْبِرٍ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے، کہا میں نے حارثہ بن وہب سے سنا، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں، ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے (اس کی قسم پوری کر دے) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا، لڑاکا، مغرور، فسادی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6657]
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں تمہیں بتاؤں کہ جنتی کون ہے؟ ہر وہ ناتواں جسے لوگ کمزور اور حقیر خیال کرتے ہوں، اگر وہ کسی بات پر اللہ کی قسم اٹھائے تو اللہ اسے پورا کر دیتا ہے۔ اور اہل جہنم ہر وہ موٹی گردن والا، بدخلق اور تکبر والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6657]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة