🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائی حدیث نمبر 1259 کی تخریج
تخریج میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
کتاب
تخریج
سنن أبي داود
1026
إذا شك أحدكم في صلاته فإن استيقن أن قد صلى ثلاثا فليقم فليتم ركعة بسجودها ثم يجلس فيتشهد فإذا فرغ فلم يبق إلا أن يسلم فليسجد سجدتين وهو جالس ثم ليسلم
« انظر حدیث رقم : (1024)، (تحفة الأشراف: 4163، 19091) (صحیح) » (یہ حدیث بھی حدیث نمبر: (1024) کی طرح مرفوع اور متصل ہے، اس میں امام مالک نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جان بوجھ کر حذف کر دیا ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے)
قال الشيخ زبير علي زئي:
صحيح¤ وللحديث شواھد عند ابن عبد البر في التمھيد (5/20 وسنده صحيح)
سنن النسائى الصغرى
1258
حل حبوته ثم سجد سجدتي السهو وقال هكذا فعل رسول الله
«تفرد بہ النسائي، مسند احمد 1/438 (صحیح) (اس حدیث میں علقمہ نے عبداللہ بن مسعود کا ذکر نہیں کیا ہے، جن سے اوپر صحیح حدیث گزری، اس لیے یہ سند مرسل ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے)»
قال الشيخ زبير علي زئي:
إسناده صحيح
سنن النسائى الصغرى
1259
أن علقمة صلى خمسا فلما سلم
«انظر حدیث رقم: 1257 (صحیح) (علقمہ نے اس حدیث میں صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، لیکن اصل حدیث علقمہ نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے)»
قال الشيخ زبير علي زئي:
صحيح