🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

لفظ وضاحت و مترادفات
اَعْجَاز
اَعْجَازُ النَّخْل بمعنی کھجور کے درخت کی جڑیں۔ درخت کی جڑ کے کئی حصے بن کر زمین میں پیوست ہو جاتے ہیں جڑ کے ان حصوں کو اِعْجَازُ کہتے ہیں۔
متعلقہ اردو لفظ اور اس کے عربی مترادف
جڑ
”جڑ“ کے لیے ”اَصْل“ ، ”اَعْجَاز“ اور ”دَابِر“ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔
روٹ:أ ص ل
اَصْل
بمعنی کسی چیز کی بنیاد اور درختوں اور پودوں وغیرہ کی جڑ۔ (ضد فرع بمعنی شاخ)۔ (ج اصول ) اور اصول ان قواعد کو بھی کہتے ہیں جن پر کسی علم کی بنیاد ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ
”;پاکیزہ کلمہ کی مثال اس پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں مضبوط یعنی زمین کو پکڑے ہوئے ہوں اور شاخیں آسمان میں ہوں۔“
[14-إبراهيم:24]
روٹ:ع ج ز
اَعْجَاز
اَعْجَازُ النَّخْل بمعنی کھجور کے درخت کی جڑیں۔ درخت کی جڑ کے کئی حصے بن کر زمین میں پیوست ہو جاتے ہیں جڑ کے ان حصوں کو اِعْجَازُ کہتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
”;تو اس قوم کو اس طرح بچھڑے ہوئے دیکھے جیسے کھجور کی کھوکھلی جوڑیں۔“
[69-الحاقة:7]
روٹ:د ب ر
دَابِر
دُبر بمعنی پشت ، مقعد۔ اور ہر چیز کا پچھلا حصہ۔ اور دَابِر بمعنی ہر چیز کا آخر۔ اصل اور قَطَعَ اللهُ دَابِرَھُم بمعنی اللہ ان کی بیخ کنی کرے۔ اور اِدْبَار کا ایک معنی نحوست ہے۔ اور اس کی ضد اِقْبَال ہے۔ اور دَابِر دراصل کسی چیز کے رہے سہے یا بچے کھچے برے اثرات کے لیے آتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ
”;اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر پھینک دے۔“
[8-الأنفال:7]

ماحصل
نمبر
لفظ
مختصر وضاحت
1
اَصْل
درختوں اور پودوں کی جڑ۔
2
اَعْجَاز
جڑ کی زمین میں پھیلی ہوئی چھوٹی شاخیں۔
3
دَابِر
بیچ کنی کے لیے استعمال ہوتا ہے خرابی کی جڑ یا بنیاد۔