لفظ وضاحت و مترادفات
جَلَا (جلو)
جلا بمعنی کسی امر کو واضح کرنا۔ ظاہر و آشکار کرنا۔ اور جلا الرجل عن بلده کسی کو اس کے شہر یا ملک سے نکالنا۔ جلاوطن کرنا۔ جَلَا النَّحْل بمعنی شہد نکالنے کے لیے دھونی دے کر مکھیوں کو بھگانا۔ اور الجالي بمعنی وہ مسافر لوگ جو اپنا وطن چھوڑ کر آتے ہیں۔
متعلقہ اردو لفظ اور اس کے عربی مترادف
جلاوطنی
”جلاوطنی“ کے لیے ”جَلَا“ (جلو)“ اور ”نَفٰي“ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔
روٹ:ج ل و
جَلَا (جلو)
جلا بمعنی کسی امر کو واضح کرنا۔ ظاہر و آشکار کرنا۔ اور جلا الرجل عن بلده کسی کو اس کے شہر یا ملک سے نکالنا۔ جلاوطن کرنا۔ جَلَا النَّحْل بمعنی شہد نکالنے کے لیے دھونی دے کر مکھیوں کو بھگانا۔ اور الجالي بمعنی وہ مسافر لوگ جو اپنا وطن چھوڑ کر آتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْلَا أَنْ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا
”;اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا۔“
[59-الحشر:3]
روٹ:ن ف ي
نَفٰي
بمعنی موجود نہ رہنا۔ اور اس کی ضد ثَبَتَ ہے۔ اور منفی بمعنی نیست و نابود کیا ہوا۔ دور ہٹایا ہوا۔ اور نفی الرجل من بلدہٖ بمعنی کسی کو شہر بدر کرنا۔ اور نَفٰي ینفوا بمعنی قید خانہ میں قید کرنا۔ اور کسی چیز کو باہر پھینک دینا کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے چکی آٹے کو ، یا ہانڈیا ابل کر ابال کو یا سیلاب کوڑا کرکٹ کو باہر پھینک دیتا ہے۔ اور اَلنِّفَایَة اس ردی شے کو کہتے ہیں۔ جو پرے پھینک دی جائے۔ گویا نَفٰي ینفوا میں بے بسی اور بے آبروئی کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ
”;جو لوگ خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پاوں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیے جائیں۔“
[5-المائدة:33]
ماحصل
نمبر
لفظ
مختصر وضاحت
1
جَلَا (جلو)
بمعنی کسی کو جلاوطن کرنا۔
2
نَفٰي
بمعنی کسی کو ذلت اور رسوائی سے نکالنا ہے۔